Book Name:163 Madani Phool

انہیں ایصالِ ثواب مَندُوب (یعنی پسندیدہ )و ثواب (فتاوٰی رضویہ مخرّجہ ج ۹ص۲ ۳ ۵)  

خ(ولیُّ اللہ کے مزار شریف یا) کسی بھی مسلمان کی قَبْر کی زیارت کو جانا چاہے تو مُستَحَب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان پر (غیر مکروہ وقت میں )دورَکعَت نَفل پڑھے،ہر رَکعَت میں سُورَۃُ الْفَاتِحَۃِ کے بعدایک بار اٰیَۃُ الْکُرْسِی اور تین بار سُورۂ اِخْلَاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے، اللہ تَعَالٰیاُس فوت شدہ بندے کی  قَبْر میں نور پیدا کرے گا اور اِس (ثواب پہنچا نے  والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ( عالمگیری ج۵ ص۳۵۰ )خمزارشریف یا  قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہو (ایضاً) خ قَبْرکو بوسہ نہ دیں ، نہ قَبْر پر ہاتھ لگائیں (فتاوٰی رضویہ  مخرّجہ ج ۹ص۵۲۲،  ۵۲۶) بلکہ قَبْرسے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو جائیں خ  قَبْرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیِّت ہو توکفر ہے(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج ۲ ۲ ص۴۲۳)خ قبرِستان میں اُس عام راستے سے جائے،جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں ، جوراستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔ ’’رَدُّالْمُحتار‘‘میں ہے: (قبرِستان میں  قبریں پاٹ کر) جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اُس پرچلنا حرام ہے۔ (رَدُّالْمُحتار ج۱ ص۶۱۲) بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے (دُرِّمُختارج۳ص۱۸۳)خ کئی مزاراتِ اولیاء پر دیکھا گیا ہے کہ زائرین کی سَہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مِسمار (یعنی توڑ پھوڑ) کر کے فرش بنادیاجاتا ہے،ایسے فرش پر لیٹنا، چلنا،کھڑا ہونا ، تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے،دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے خزیارتِ قبر میّت کے

 



Total Pages: 40

Go To