Book Name:163 Madani Phool

کے چند قطرے ڈال کر حل کر لیجئے، خوشبو دار تیل تیّار ہے۔ سر اور داڑھی کے بالوں کو وقتاً فوقتاً صابُون سے دھو تے رہئیخعورَتوں کو لازم ہے کہ کنگھی کرنے میں یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انھیں کہیں چھپا دیں کہ ان پر اجنبی(یعنی ایسا شخص جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہ ہو) کی نظر نہ پڑے (بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۹ )خخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا۔( ترمذی ج۳ص۲۹۳حدیث ۱۷۶۲) یہ نہی (یعنی مُمانَعَت مکروہِ) تنزیہی (تَن۔زی۔ہی)ہے اور مقصد یہ ہے کہ مرد کو بناؤ سنگھار میں مشغول نہ رہنا چاہیے(بہارِ شریعت ج۳ص۵۹۲ ) امام مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں : جس شخص کو بالوں کی کثر ت کی وجہ سے ضرورت ہو وہ مُطلقاً روزانہ کنگھی کر سکتا ہے (فَیضُ القدیرج۶ ص۰۴ ۴ ) خبارگاہِ رضویت میں ہونے والے سُوال و جواب ملاحَظہ ہوں ، سُوال:کنگھاداڑھی میں کس کس وقت کیا جائے؟ جواب :کنگھے کے لیے شریعت میں کوئی خاص وَقت مقرر نہیں ہے اِعتِدال(یعنی مِیانہ رَوی) کا حُکم ہے، نہ تو یہ ہو کہ آدمی جناتی شکل بنارہے نہ یہ ہو کہ ہر وقت مانگ چوٹی میں گرفتار(فتاوٰی رضویہ ج۲۹ ص۹۲ ، ۹۴ ) خکنگھی کرتے وقت سیدھی طر ف سے ابتدا کیجئے چنانچہاُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائِشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں : شَہَنشاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر کام میں دائیں (یعنی سیدھی)جانب سے شُروع کرنا پسند فرماتے یہاں تک کہ جُوتا پہننے ،کنگھی کرنے اور طہار ت کرنے میں بھی ( بُخاری ج۱ ص ۸۱ حدیث ۱۶۸ )شارِحِ بخاری حضرتِ علّامہ بدرُالدّین عینی

 



Total Pages: 40

Go To