Book Name:163 Madani Phool

محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نقل کرتے ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ مؤمن کے شیطان اور کافر کے شیطان میں ملاقات ہوئی،کافر کا شیطان خوب موٹاتازہاور اچّھے لباس میں تھا ۔ جبکہ مومِن کا شیطان دُبلاپتلا، پَراگندہ( یعنی بکھرے ہوئے) بالوں و۱لا اور بَرَہنہ (بَ۔رَہْ ۔ نہ یعنی ننگا) تھا۔ کافر کے شیطان نے مومن کے شیطان سے پوچھا: آخِر تم اتنے کمزور کیوں ہو؟اُس نے جواب دیا:میں ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوں جو کھاتے پیتے وَقت بِسمِ اللہشریف پڑھ لیتاہے تو میں بھوکا وپیاسا رہ جاتا ہوں ،جب تیل لگاتا ہے توبِسمِ اللہشریف پڑھ لیتا ہے تو میرے بال پَراگندہ ( یعنی بکھرے ہوئے) رہ جاتے ہیں۔ اِس پر کافر کے شیطان نے کہا : میں تو اَیسے کے ساتھ ہوں جو ان کاموں میں کچھ بھی نہیں کرتا لہٰذا میں اس کے ساتھ کھانے پینے ،لباس اور تیل لگانے میں شریک ہو جاتا ہوں (اِحیائُ الْعُلوم ج ۳ص۴۵)ختیل ڈالنے سے قبل ’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ‘‘پڑھ کر الٹے ہاتھ کی ہتھیلی میں تھوڑا ساتیل ڈالئے ، پھر پہلے سیدھی آنکھ کے ابر و پر تیل لگائیے پھرالٹی کے ، اس کے بعد سیدھی آنکھ کی پلک پر ، پھر اُلٹی پر ، اب سر میں تیل ڈالئے ۔ اور داڑھی کوتیل لگا ئیں تو نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیانی بالوں سے آغازکیجئے خسرسوں کا تیل ڈالنے والا ٹوپی یاعمامہ اُتارتا ہے تو بعض اوقات بد بُو کا بھَپْکا نکلتا ہے لہٰذا جس سے بن پڑے وہ سر میں عُمدہ خوشبو دار تیل ڈالے، خوشبو دار تیل بنانے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ کھوپرے کے تیل کی شیشی میں اپنے پسندیدہ عطر

 



Total Pages: 40

Go To