Book Name:Al Wazifa tul karima

{3}’’ اَلْحَمْدُ‘‘([1])و ’’قُلْ‘‘([2]) ایک ایک بار۔([3])

{4} ابتدائے سورۂ بَقَرَۃ سے مُفْلِحُوْنَتک۔([4])

 اورآ خر’’اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ‘‘سے ۔([5])

ان دونوں  کے فوا ئد بے شمار ہیں۔([6])

{5} ’’ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ‘‘سے آخر’’ کَہْف ‘‘ تک چار آیتیں۔([7])

            شب میں  یا صبح جس وقت جاگنے کی نیت سے پڑھے آنکھ کھلے گی۔([8])

{6}دونوں  کف ِدست پھیلا کر تینوں  ’’قُلْ‘‘([9])ایک ایک بار پڑھ کر ان پر دم کرکے سر اور چہرہ اور سینے اور آگے پیچھے جہاں  تک ہاتھ پہنچیں  سارے بد ن پر پھیر لے ، پھر دو بارہ سہ بارہ اسی طرح، ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔([10])

{7}سورۃ قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ([11])پر خاتمہ کرے ۔اس کے بعد کلام کی حاجت ہو تو بات کر کے پھر پڑھ لے کہ اسی پر خاتمہ ہو گا۔([12]) اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی

سوتے سے اٹھ کر

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔ ([13])

 



[1]      اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷)(پ۱، الفاتحۃ)

ترجمہ ٔ کنزالایمان  : سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کابہت مہربان رحمت والاروزِ جزا کا مالک ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ہم کو سیدھا راستہ چلا راستہ ان کاجن پر تو نے احسان کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

[2]     قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)(پ۳۰، الاخلاص)

ترجمہ ٔ کنز الایمان : تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاداور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔

[3]     الجامع الصغیر للسیوطی، حرف الہمزۃ، الحدیث : ۸۹۲، ص۶۱

[4]     الٓمّٓۚ(۱) ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)(پ۱، البقرۃ ۱-۵)

ترجمہ ٔ کنزالایمان  : وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اسمیں ہدایت ہے ڈر والوں کووہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ۔

[5]      اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) (پ۱، البقرۃ ۲۸۵-۲۸۶)

ترجمہ ٔ کنزالایمان  :  رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے ۔

[6]     صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل البقرۃ، الحدیث : ۵۰۰۹، ج۳، ص۴۰۵ و شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور والآیات، الحدیث : ۲۴۱۲، ج۲، ص۴۶۴۔

[7]     اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(۱۰۸) قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا(۱۰۹) قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠(۱۱۰)  (پ۱۶، الکہف۱۰۷۔۱۱۰)

ترجمہ ٔ کنزالایمان  :  بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کیلئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں تم فرماؤ ظاہر صورتِ بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے ۔

[8]      سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن، الحدیث :  ۳۴۰۶، ج۲، ص