Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

(5)...حضرت  سیِّدُناابوسلیمان دَارَانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

            حضرتِ سیِّدُناابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیہ دارانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  (متوفی۲۱۵ھ) فرماتے ہیں : ’’بارہا میرے دل میں تصوف کاکوئی نکتہ کئی کئی دنوں تک آتارہتاہے ، مگر جب تک دوعادل گواہ یعنی قرآن اورسنت (یعنی حدیث ِ پاک )اس کی تصدیق نہیں کر تے میں اسے قبول نہیں کرتا۔‘‘ (المرجع السابق ، ص۴۱)

(6)حضرت  سیِّدُناذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

            حضرتِ سیِّدُناابوالفیض ثوبان بن ابراہیم المعروف ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   (متوفی۲۴۵ھـ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی خاص علامت یہ ہے کہ انسان ظاہر وباطن میں اس کے محبوب، محمدمصطفی ، احمدمجتبیٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اَخلاق ، اَفعال، اَحکام اور سنتوں کی اتباع کرے ۔‘‘ (المرجع السابق ، ص۲۴)

(7)حضرت  سیِّدُنابشرحافیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

          حضرتِ سیِّدُناابو نصربشربن حارث حافیعلیہ رحمۃاللہ الکافی(متوفی۲۲۷ھـ) فرماتے ہیں : ’’مَیں ایک بار خوا ب میں حضور نبی ٔکریم، رء ُو ف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت سے مشرف ہوا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھ سے ارشادفرمایا: ’’اے بشر! کیاتم جانتے ہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں تمہارے ہم عصراولیاء سے زیادہ بلند مرتبہ کیوں عطافرمایا؟ ‘‘ مَیں نے عرض کی :’’یا رسول اللہ  عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میں اس کا سبب نہیں جانتا۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’اس وجہ سے کہ تم میری سنت کی پیروی کرتے ہو، صالحین کی خدمت کرتے ہو، اپنے اسلامی بھائیوں کی خیرخواہی(یعنی انہیں نصیحت) کرتے ہواورمیرے صحابہ کرام اورمیرے اہل بیت اطہار(رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)سے محبت کرتے ہو۔ یہی سبب ہے کہ جس نے تمہیں ابرارکی منازل تک پہنچا دیاہے ۔ ‘‘(الرسالۃ القشیریۃ ، ابو النصر بشر بن حارث حافی، ص۳۱)

(8)حضرت  سیِّدُنااَحمدخراز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

            حضرتِ سیِّدُناابوسعیداحمدبن عیسٰی خرازعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار(متوفی ۲۷۷ھـ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’ہروہ باطنی امرباطل ومردودہے جس کی ظاہر مخالفت کرے ۔‘‘(المرجع السابق ، ص۶۱)

 (9)حضرت  سیِّدُناابوعبداللہ بلخی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

            حضرتِ سیِّدُناابوعبداللہ محمدبن فضل بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی ۳۱۹ھــ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’چار باتوں کے سبب چارقسم کے لوگوں سے اسلام چلا جاتاہے : (۱)اپنے علم پرعمل نہ کرنے والے (۲)جس کاعلم نہیں اس پرعمل کرنے والے (۳)جس پرعمل ہے اس کاعلم نہ سیکھنے والے اور(۴)دوسروں کوعلم حاصل کرنے سے روکنے والے ۔‘‘ (المرجع السابق ، ص۵۶)

            یہ تمام فرامین حضرتِ سیِّدُنا عارف باللہ امام عبدالکریم بن ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی ۴۶۵ھ )کی شہرہ آفاق تصنیف’’الرسالۃ ‘‘المعروف ’’رسالہ قشیریہ‘‘ سے نقل کئے گئے ہیں ۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے یہ کتاب اسلامی ممالک کے صوفیہ کی جماعت کے لئے ۴۳۷ھـ میں لکھی۔اس کتاب کے بارے میں حضرتِ سیِّدُنا امام تاج الدین ابونصر عبدالوہاب بن علی سبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی ۷۷۱ھ) فرماتے ہیں :یہ وہ مشہورومعروف کتاب ہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ’’یہ جس گھر میں ہووہاں کوئی مصیبت وآفت نہیں آتی۔‘‘

(طبقات الشافعیۃ الکبری ، الطبقۃ الرابعۃ ، عبدالکریم بن ھوازن ، ۵، ۹۹)

علامہ نابلسیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی نصیحت:

            ان تمام مبارک فرامین کی شرح کرنے کے بعد عارف باللہ، ناصح الامہ، صاحب کرامات کثیرہ حضرت سیدی علامہ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی ۱۱۴۳ھ) اپنے نصیحت بھرے مخصوص اندازمیں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اے عقلمند! اے حق کے طلب گار !تعصب اور بے راہ روی چھوڑ کربنظر انصاف دیکھ کہ یہ تمام نفوسِ قدسیہ( یعنی سید الطائفۃ جنید بغدادی ، سری سقطی، ا بویزیدبسطامی ، ابوسلیمان دارانی ، ذوالنون مصری ، بشر حافی ، ابوسعید خرازاورمحمدبن فضل رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)عظیم ترین مشائخ طریقت اورانوارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مشاہدہ وکشف کی راہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچے ہوئے ، حقیقت آشنا عظیم پیشوا ہیں ، یہ سب کے سب شریعتِ محمدیہ اور طریقۂ مصطفویہ عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ظاہروباطن سے تعظیم کر رہے ہیں ۔ اور کیوں نہ کریں کہ یہ حضرات ان بلندوبالامقامات اوردرجات تک اسی تعظیم اور سیدھی راہِ شریعت پر چلنے کے سبب پہنچے ہیں ۔ان بزرگانِ دین اوران کے علاوہ دیگر صوفیائے کاملین میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں کہ اس نے شریعت مطہرہ کے کسی حکم کی تحقیرکی ہویااس کوقبول کرنے سے بازرہاہوبلکہ یہ سارے بزرگ ہر حکم شریعت کو تسلیم کرنے ، اس پر ایمان لانے ، اس کاعلم رکھنے اور اس پرعمل کرنے والے ہیں ۔ اور جوشخص ان عظیم ہستیوں میں سے کسی کے بارے میں طعن وتشنیع کرتا ہے وہ یقینا ان کے مقام کی معرفت سے بے خبر ہے ۔اوروہ جہالت وبے خبری کے ہاتھوں ایساکرنے پرمجبورہے ۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْریعنی اللہ  عَزَّوَجَلَّ دلوں کی بات جانتا ہے ۔نیزیہ حضرات قرآن وسنت کے معانی سے متعلق کشفِ ربانی والہامِ رحمانی کے ذریعے حاصل ہونے والے اپنے باطنی علوم کی بنیاد سیرتِ محمدی عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورہرباطل سے جداملت حنفیہ پر رکھتے ہیں کیونکہ یہی ملت ِ اِسلام ہے ۔اوریہ ہرگزنہیں ہوسکتاکہ کسی عارف اور سالک کے نزدیک ان نفوسِ قدسیہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے باطنی علوم، شریعت مطہرہ کے خلاف ہوں ۔ البتہ! جاہل اور دھوکے میں پڑاہواشخص اس کے خلافِ شرع ہونے کادعوی کرتاہے ۔اور وہ جاہل وفریب خوردہ ، علم ا ورذوقِ سلیم سے عاری ہونے کی وجہ سے زبردستی اس معاملہ میں دخل اندازی کرتاہے حالانکہ وہ ان راہوں سے بالکل ناواقف ہے ۔

            پس جب تونے جان لیاکہ یہ بابرکت ہستیاں یعنی حضرات صوفیاء کرام ، شریعت کے احکام کو مضبوطی سے تھامنے والے اورقریب ترین ذریعے سے قرب الٰہیعَزَّوَجَلَّحاصل کرنے والے ہیں تو خیال کرناکہ کہیں ان جاہلوں کی حدسے گزری ہوئی باتیں اوردین کونقصان پہنچانے والے کام تجھے دھوکے میں نہ ڈالیں کہ بغیرعلم ومعرفت سالک وعابدبنے بیٹھے ہیں ۔ یہ لوگ عقائد ِ اہلسنّت سے ناواقفیت ،  خلافِ شرع اقوال ، جہل مرکب کے سبب باطل اعمال اورخودکوہدایت پرسمجھنے کے اعتبارسے خود بگڑے اوردوسروں کوبھی بگاڑتے ہیں ، آپ گمراہ اوردوسروں کوگمراہ کرتے ہیں ،



Total Pages: 40

Go To