Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

نباتات کے اُگنے کا سوال کرتے ہیں توان کے لئے زمین فصلیں اُگادیتی ہے ۔ وہ دعا کرتے ہیں تو مختلف قسم کے مصائب ان کی دعا کی وجہ سے دور کردیئے جاتے ہیں ۔‘‘

 (تاریخ دمشق لابن عساکر، باب ان بالشام یکون الابدالالخ، ج۱، ص۳۰۳)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!

            آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ فرامین خداومصطفی  عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کس پیارے اندازمیں اولیاء کرام کی شان وعظمت ، مقام ومرتبہ اورتصرفات واختیارات کوبیان کررہے ہیں ۔یہ توچندآیات واحادیث ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی قرآن مجیدکی بہت سی آیات طیبہ اور بے شماراحادیث مبارکہ ایسی ہیں جواللہ عَزَّوَجَلَّکے ولیوں کے شان ومرتبہ کوبیان کرتی ہیں ۔

جعلی پیروں کی مذمت کا بیان

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

             جہاں حقیقی اولیاء کرام، قرآن وسنت اوراپنے روحانی فیوض وبرکات سے اپنے مریدین ومعتقدین کی مذہبی واخلاقی اورظاہری وباطنی تربیت فرماتے ہیں وہاں آج کل بعض نام نہادجعلی پیرفقیر ولایت کا ڈھونگ رچاکر لوگوں کو دھوکا دیتے ہوئے ان کے ایمانوں پر ڈاکے ڈالتے ہیں اورانہیں گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں اورخودان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب ان سے کسی شرعی معاملہ جیسے نماز وغیرہ سے متعلق پوچھا جاتا ہے تو(اَلْعِیَاذُبِاللّٰہِ تَعَالٰی) کہہ دیتے ہیں :’’ہم شریعت کے پابند نہیں بلکہ شریعت ہماری پابندہے ۔‘‘کوئی یہ بکتاہے :’’تم شریعت پرچلو، ہمارا طریقت کاراستہ اس سے الگ ہے ۔ تم ظاہری احکام پرعمل کرتے ہو جبکہ ہم باطنی علوم پرعمل پیراہیں ۔‘‘اوربعض یہ حیلہ سازی کرتے ہیں : ’’میاں ! ہم تو مدینے میں نماز پڑھتے ہیں ۔ میاں ! نماز تو روحانیت کا نام ہے ، جو دِل میں ہوتی ہے ، ہمارے دل نمازی ہیں ‘‘وغیرہ وغیرہ۔ ایسے خبیث صفت لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ایسوں سے اپناایمان وعقیدہ محفوظ رکھنافرض ہے کہ کہیں یہ لٹیرے ہمارا ایمان بھی نہ برباد کر دیں ۔کیونکہ عام طورپران کے شنیع اقوال وعقائد، کفروگمراہی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اوران سے دوررہنااس لئے بھی ضروری ہے کہ اہلسنّت وجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’’شریعت سے طریقت جُدانہیں ۔‘‘چنانچہ،

            مجدداعظم، امام اہلسنّت، سیِّدُنااعلیٰ حضرت ، امام احمدرضاؔخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  (متوفی ۱۳۴۰ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’شریعت حضوراقدس سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے اقوال ہیں ، اورطریقت حضور کے افعال، اور حقیقت حضور کے احوال ، اور معرفت حضورکے علوم بے مثال۔صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اِلٰی مَالَا یَزَال۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج۲۱، ص۴۶۰)

شَرِیْعَت اورطَرِیْقَت کے ایک ہونے پرحقیقی اَوْلِیَاء عُظَّا م  کے فرامین

             یہاں اِسلام کے ان عظیم ترین مشائخ طریقت اور حقیقت آشنا پیشواؤں کے چند اقوال پیش کئے جاتے ہیں جن کے ’’ اکابراولیائے امت ‘‘ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں تاکہ سیدھی راہ سے منحرف جعلی پیروں اوران کے جاہل مریدوں پر روشن ہوجائے کہ ’’شریعت سے طریقت جُدانہیں ۔‘‘

(1)حضرت سیِّدُناجُنَیْدبَغْدَادِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

          گروہِ صوفیاکے سردار، طریقت وحقیقت کے امام حضرت سیِّدُنا ابوقاسم جنید بن محمد بغدادی (المعروف جنیدبغدادی)عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی (متوفی ۲۹۷ھـ)فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّتک پہنچانے والے تما م راستے ہرشخص پر بندہیں سوائے اس شخص کے جوحضورنبی ٔ اکرم ، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے طریقہ کی اتباع وپیروی کرے ۔‘‘ نیزارشادفرمایاکہ’’جس نے قرآن پاک کویاد نہ کیا اور حدیث نبوی کو (کتاب یا دل میں ) جمع نہ کیا اس کی اقتداء وپیروی نہ کی جائے ۔کیونکہ ہمارا یہ علم اور (طریقت کا)راستہ قرآن وسنت کاپابند ہے ۔‘‘(الرسالۃ القشیریۃ ، ابو القاسم الجنید بن محمد، ص۵۰)

(2)حضرت سیِّدُناسری سقطِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

          حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن سری بن مغلس سقطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۲۵۳ھ) فرماتے ہیں :’’تصوف تین وصفوں کانام ہے (۱)اس (صوفی) کا نورِ معرفت اس کے نورِوَرَع کو نہ بجھائے (۲)باطن سے کسی ایسے علم میں بات نہ کرے کہ ظاہرقرآن یاظاہرسنت کے خلاف ہو (۳)کرامتیں اسے ان چیزوں کی پردہ دری پرنہ لائیں جواللہ عَزَّوَجَلَّنے حرام فرمائیں ۔‘‘  (المرجع السابق ، ص۲۸)ـ

(3)حضرت سیِّدُنابایزیدبسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کافرمان:

            حضرتِ سیِّدُناعمی بسطامی کے والدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مابیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُناابویزیدبسطامیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی (متوفی ۲۶۱ھ یاـ۲۳۴ھـ) نے مجھ سے فرمایا:’’ چلو اس شخص کودیکھیں جس نے خودکوولایت کے ساتھ مشہورکر رکھاہے ۔‘‘ وہ ایسا شخص تھا جس سے حصولِ برکت کی خاطر ہر طرف سے لوگ آتے تھے ۔اور وہ زُہدوتقویٰ سے مشہور تھا۔چنانچہ، زیارت اور حصولِ برکت کے لئے ہم بھی وہاں گئے ۔اس وقت وہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلا۔قبل اس کے کہ کوئی بات ہوتی اتفاقاًاس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔یہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا ابویزید بسطامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی   فوراً واپس آگئے اوراسے سلام تک نہ کیااورارشادفرمایا:’’یہ شخص رسولِ کریم،     رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آداب میں سے ایک ادب پر توامین ہے نہیں تو پھر جس ولایت کا دعویٰ کرتا ہے اس پر کیا امین ہوگا۔‘‘  (المرجع السابق ، ص۳۸)

(4)…حضرتِ سیِّدُناابویزیدبسطامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی (متوفی ۲۶۱ھ یاـ۲۳۴ھـ) نے ہی ایک موقع پر ارشادفرمایا:’’اگرتم کسی شخص کودیکھوکہ کرامات دیاگیا ہو حتی کہ وہ ہواپرچارزانوبیٹھ جائے تواس سے فریب نہ کھاناجب تک یہ نہ دیکھ لوکہ امرونہی (یعنی فرض وواجب اورحرام ومکروہ)، حدودِالٰہی کی حفاظت اور شریعت پرعمل میں اس کا حال کیسا ہے ۔‘‘ (المرجع السابق، ص۳۸۔۳۹)

 

 



Total Pages: 40

Go To