Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

محبوب اعظم، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے واسطے سے اپنی محبوبیت کااعزازبخشا۔تویہی وہ لوگ ہیں جن سے زمانے کی زینت قائم ہے ۔جن کی معرفت کی مہک نے تمام عالم کومعطرکررکھاہے ۔ جن کے دل ہروقت اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں جھکے رہتے ہیں ۔جو اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی رضاکی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کرکے خوش دلی سے آزمائشوں کو قبول کرتے ہیں حتی کہ اس راہ میں اپنی جانوں تک کو قربان کر دیتے ہیں ۔اُن کو خزانے پیش کئے جاتے ہیں مگروہ ٹھکرا دیتے ہیں ۔ دُنیا ان پر فدا ہونے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں ۔شیطان ان پر اپنے مکروفریب کا جال ڈالنے کی کوشش کرتاہے مگر اس کا ان پر کوئی بس نہیں چلتااورنہ وہ انہیں دھوکادے سکتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے انہیں اپنے کرم سے محفوظ کردیاہے ۔ لوگ کھاتے ہیں اوریہ بھوکے رہتے ہیں ۔لوگ سوجاتے ہیں اوریہ اپنے مالک ومولی عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں قیام و سجود میں رات بسر کرتے ہیں ۔ یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کے سروں پر اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنی ولایت کاتاج سجایا، انہیں اپنی معرفت وپہچان عطافرمائی ، انہیں اپنے بھیدوں (یعنی رازوں ) سے آگاہی بخشی ، ا ن کے دلوں پرخاص تجلِّی ڈال کرانہیں چمکتاآفتاب بنادیااور ان کو بصارت اور بصیرت یافتہ کردیا۔یعنی وہ بابرکت ہستیاں جنہیں ہم ’’اولیاء اللہ ‘‘کے نام سے یادکرتے ہیں کہ جب ان میں سے کسی ولی کا نام زبان پرآتاہے تومنہ سے بے ساختہ ’’رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ‘‘ نکلتا ہے ۔

            یہ قدسی حضرات کیسی اعلی شان کے مالک ہیں کہ ان کے فضائل وکمالات، خودخالقِ کائنات نے اپنی مقدس کتاب ’’قرآن مجیدفرقان حمید ‘‘میں اوراپنے محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زبان حقیقت ترجمان سے بیان فرمائے ہیں ۔یہاں چندآیات طیبہ اوراحادیث مبارکہ تفسیروتشریح کے ساتھ ذکرکی جاتی ہیں ۔

فَضَا ئِلِ اَوْلِیَاء پرآیاتِ مُبَا رَکَہ

ولی کے لئے ایمان وتقوی شرط ہے :

{۱}…اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے :

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) (پ۱۱، یونس:۶۲، ۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان:سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے ، نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں ۔

             مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مولانا مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی (متوفی ۱۳۶۷ھ)اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قربِ الٰہی حاصل کرے اور اطاعت ِ الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دل نور جلالِ الٰہی کی معرفت میں مستغرق ہوجب دیکھے دلائلِ قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے اللہ  کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے ربّ  کی پاکی ہی بیان کرے اور جب حرکت کرے طاعت ِ الٰہی میں حرکت کرے  اور جب کوشش کرے اسی امر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قربِ الٰہی ہو، اللہ  کے ذکر سے نہ تھکے اور دل کی آنکھوں سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ، یہ صفت اولیاء کی ہے بندہ جب اس حال پر پہنچتاہے تو اللہ  اس کا ولی وناصر اور معین ومدد گار ہوتاہے ۔ ‘‘

(خزائن العرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ ۱۱، سورۃ یونس ، تحت الایۃ :۶۲)

{۲}…ارشادباری تعالیٰ ہے :

اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (پ۹، الانفال: ۳۴)ترجمۂ کنزالایمان: اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں ۔

          معلوم ہواکہ ولی اللہ کے لئے سب سے پہلے ایمان اورپھرتقوی وپرہیزگاری  شرائط کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذاکوئی بے دین اورفاسق وفاجرشخص ولی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ، مفسر شہیر حکیم الا ُمت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۱۳۹۱ھ) اس دوسری آیت ِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’کوئی کافریا فاسق ولی نہیں ہوسکتا۔ولایتِ الہٰی ، ایمان وتقوی سے میسرہوتی ہے ۔ یہ فائدہ    ’’ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ‘‘کی دوسری تفسیرسے حاصل ہواجبکہ اس کے معنی یہ ہوں کہ اللہ کے اولیاء صرف پرہیزگار لوگ ہیں ۔رب تعالیٰ (پارہ ۱۱، سورہ ٔیونس کی آیت ۶۲میں )اولیاء اللہ کے متعلق فرماتاہے : الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)  (ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں ۔)اچھی بارگاہ کے لئے اچھے بندے منتخب ہیں ۔‘‘(تفسیرنعیمی، پارہ ۱۱، سورۃ الانفال، تحت الایۃ۳۴، ج۹، ص۵۴۳)

            اورایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں : ’’ بعض لوگ متقی ہو کر ولی بنتے ہیں اور بعض حضرات ولی ہو کر متقی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت مریم(رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا)کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں 4سال کی عمر میں پہنچ کر تقویٰ اختیار نہ کیا تھا مگر ولیہ تھیں  اور حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامپیدائش سے پہلے متقی نہ بنے تھے مگر خلیفۃ اللہ تھے ۔‘‘

(نورالعرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ ۱۱، سورۃ یونس، تحت الایۃ :۶۳)

            نیزمفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مولانا مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی (متوفی ۱۳۶۷ھ)پہلی آیتِ مبارکہ کے تحت نقل فرماتے ہیں : ’’ولی وہ ہے جو اعتقاد صحیح مبنی بر دلیل رکھتاہواور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجالاتاہو۔‘‘(خزائن العرفان فی تفسیرالقرآن ، پارہ۱۱، سورۃ یونس، تحت الایۃ :۶۲)

            ولی کبھی شریعت سے نہیں ٹکراتااور نہ ہی اس کی مخالفت کرتاہے ۔بلکہ گناہ تو دورکی بات، اس کی تومشکوک ومشتبہ چیزوں سے بھی حفاظت کی جاتی ہے ۔ چنانچہ،

            محقق اہلسنّت، حضرت سیِّدُناعلامہ امام یوسف بن اسماعیل نبھانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی (متوفی ۱۳۵۰ھ ) فرماتے ہیں :’’ اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے کھانے ، پانی اور لباس کی حفاظت کی جاتی ہے ۔حرام تودورکی بات ہے ان کے جسموں تک توکوئی شک وشبہ والی شئے بھی نہیں پہنچتی ۔ اوریہ حفاظت کرنااس تعلق سے ہوتاہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّان کے دل میں یااس شے میں ڈال دیتاہے جوحرام یامشتبہ ہوتی ہے ۔ حضرت سیِّدُنا حارث محاسبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  کا ایساہی حال تھا کہ اگر ان کے سامنے مشکوک وشبہ والا کھانا لایاجاتا تو ان کی انگلی کی ایک رگ پھڑک اٹھتی۔ حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب اپنی والدہ ماجدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اکے شکم اطہرمیں تھے تو والدہ کا ہاتھ کسی مشتبہ کھانے کی طرف نہیں بڑھتا تھا بلکہ ہاتھ خودبخود پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ بعض اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیمشتبہ کھانادیکھتے توجی متلانااورقے آنا شروع ہو جاتی تھی۔ بعض نفوس قدسیہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے سامنے شبہ والاکھاناخون بن جاتا۔کئی بزرگ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاسے کیڑوں کی صورت میں پاتے ۔کچھ کے سامنے مشتبہ کھانے پر سیاہی چھا جاتی اوربعض اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیمشکوک کھانے کو خنزیر کی شکل میں دیکھتے ۔اسی طرح ان کے علاوہ دیگرعلامات پیدا ہو جاتیں ۔ ‘‘(جامع



Total Pages: 40

Go To