Book Name:Hussaini Dulha

صداقت کا حامی مصیبتوں کی کالی کالی گھٹاؤں سے بالکل نہ گھبرایا،  طوفانِ بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثَبات میں جُنبش تک نہ ہوئی،  خداو مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شیدائی دنیا کی آفتوں کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔   بلکہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پہنچنے والی ہر مصیبت کا اس نے خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا،   نیز دنیا کے مال اور حُسن وجمال کالالچ بھی اس کے عزائم سے اس کو نہ ہٹا سکا اور اس مردِ غازی نے اسلام کی خاطر ہر طرح کی راحتِ دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی۔     ؎

یہ غازی یہ تیرے پُراَسرار بندے               جنہیں تو نے بَخشاہے ذوقِ خُدائی

ہے ٹھوکر سے دو نِیم صحرا و دریا                    سِمَٹ کر پہاڑ ان کی ہیبَت سے رائی

دو عالَم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو                   عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومِن

نہ مالِ غنیمت نہ کِشوَر کُشائی

آخِر کا ر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رہائی کے بھی خوب اَسباب فرمائے۔   وہ رومی لڑکی مسلمان ہو گئی اوردونوں رِشتۂ اِزدِواج میں بھی منسلِک ہو گئے۔ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اگر آپ بھی دونوں جہاں کی سر خروئی کے تمنائی ہیں تو عاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سنتوں کی تربیّت کے لیے سفراور روزانہ فکر مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرکے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنالیجئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

 کاش میں گونگا ہوتا!

          امیرُ المؤمنین حضرتِسیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود زَبان کی آفتوں سے بے حد خوف زدہ رہا کرتے تھے چُنانچِہ فرماتے ہیں: کاش میں گونگا ہوتا مگر ذِکرُاللّٰہ کی حد تک گویائی(یعنی بولنے کی صلاحیّت) حاصل ہوتی۔  (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۰ا ص۸۷ تحتَ الحدیث: ۵۸۲۶)

 



Total Pages: 6

Go To