Book Name:Hussaini Dulha

قرار اور میری جان کا چَین ہے۔  ایک پَل تیری جدائی اور ایک لمحہ تیرا فِراق مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔

چُو دَر خَواب باشَم تُوئی دَر خَیالَم

چُو بَیدار گردَم تُوئی دَر ضَمِیرَم

 (یعنی جب سوؤں تو میرے خوابوں اور خیالوں میں بھی تو اور جب جاگوں تو میرے دل کی یادوں میں بھی تو) اے جان مادر!  میں نے تجھے اپنا خونِ جگر پلایا ہے۔  آج اِس وقت دشتِ کربلا میں نواسۂ محبوبِ رَبّ ذُوالجلال ،  مولیٰ مشکلکشا کا لال،  خاتونِ جنّت کا نونہال،  شہزداۂ  خوش خِصا ل ظلم وستَم سے نِڈھال ہے۔  میرے لال!  کیا تجھ سے ہو سکتا ہے کہ تُو اپنی جان اس کے قدموں پر قربان کر ڈالے !  اِس بے غیرت زندگی پر ہزار تُف ہے کہ ہم زندہ رہیں اور سلطانِ مدینۂ منوَّرہ ،  شہنشاہِ  مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا لاڈلا شہزادہ ظلم و جَفاکے ساتھ شہید کر دیا جائے۔اگر تجھے میری مَحَبَّتیں کچھ یاد ہوں اور تیری پرورش میں جومشَقَّتیں میں نے اٹھائی ہیں ان کو تُو بھولا نہ ہو تو اے میرے چمن کے مہکتے پھول !  تُوپیارے حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سر پر صَدقے ہو جا۔  حُسینی دولھا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:  اے مادرِ مہربان ،  خوبیٔ نصیب ،  یہ جان شہزادہ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  پر قربان ہو میں دل و جان سے آمادہ ہوں ،  ایک لمحہ کی اجازت چاہتا ہوں تا کہ اُس بی بی سے دو باتیں کر لوں جس نے اپنی زندگی کے عیش و راحت کا سہرا میرے سر پر باندھا ہے اور جس کے ارمان میرے سوا کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے ۔   اس کی حسرتوں کے تڑپنے کا خیال ہے،  اگر وہ چاہے تو میں اس کو اجازت دے دوں کہ وہ اپنی زندگی کوجس طرح چاہے گزارے۔  ماں نے کہا :  بیٹا !  عورتیں ناقِصُ الْعقل ہوتی ہیں ،  مَبادا تو اُس کی باتوں میں آجائے اور یہ سعادت سَرمَدی تیرے ہاتھوں سے جاتی رہے۔

      حُسینی دولھا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:  پیاری ماں !  اما مِ حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مَحَبَّت کی گرہ دل میں ایسی مضبوط لگی ہے کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو کوئی کھول نہیں سکتا اور ان کی جاں نثاری کا نقش دل پر اس طرح کندہ ہے جو دنیا کے کسی بھی پانی سے نہیں دھویا جا سکتا۔  یہ کہہ کر بی بی کی طرف آئے اور اسے خبردی کہ فرزندِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ابنِ فاطمِہ بَتُول،  گلشنِ مولیٰ علی کے مہکتے پھول میدانِ کربلا میں رَنجیدہ و مَلُول ہیں۔  غدّاروں نے ان پر نَرغہ کیا ہے۔  میری تمنّا ہے کہ ان پر جان قربان کروں۔  یہ سن کر نئی دُلہن نے ایک آہِ سرددلِ پُر درد سے کھینچی اور کہنے لگی:  اے میرے سرکے تاج !  افسوس کہ میں اس جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔  شریعتِ اِسلامیہ نے عورتوں کو لڑنے کے لئے میدان میں آنے کی اجازت نہیں دی۔  افسوس !  اِس سعادَت میں میرا حصّہ نہیں کہ تیرے ساتھ میں بھی دشمنوں سے لڑ کر امام عالی مقام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  پر اپنی جان قربان کروں۔  سبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ نے تو جنّتی چَمَنِستان کا ارادہ کر لیا وہاں حُوریں آپ کی خدمت کی آرزُومند ہو ں گی۔  بس ایک کرم فرما دیں کہ جب سردار انِ اہلبیت عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ جنّت میں آپ کیلئے نعمتیں حاضِر کی جائیں گی اور جنّتی حُوریں آپ کی خدمت کیلئے حاضِر ہوں گی،  اُس وَقت آپ مجھے بھی ہمراہ رکھیں۔  حُسینی دُولھا اپنی اُس نیک دُلہن اور برگُزِیدہ ماں کو لے کر فرزندِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضِر ہوا۔  دُلہن نے عرض کی: اے اِبْنَ رسول!  شُہَداء گھوڑے سے زمین پر گرتے ہی حُوروں کی گود میں پہنچتے ہیں اورغِلمانِ جنّت کمالِ اطاعت شِعاری کے ساتھ ان کی خدمت کرتے ہیں۔ ’’ یہ‘‘  حُضُورپر جاں نثاری کی تمنّا رکھتے ہیں۔  اور میں نہایت ہی بے کس ہوں ،  کوئی ایسے رِشتہ دار بھی نہیں جو میری خبر گیری کر سکیں۔  التِجا یہ ہے کہ عرصہ گاہ محشر میں میری  ’’ ان‘‘  سے جُدائی نہ ہو،  اور دنیا میں مجھ غریب کو آپ کے اہلبیت اپنی کنیزوں میں رکھیں ،  اور میری تمام عمر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پاک بیبیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی خدمت میں گزر جائے۔

      حضرت امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یہ تمام عہدو پَیماں ہو گئے اور سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی عرض کر دی کہ یا امامِ عا لی مقام!  اگر حُضُور تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت سے مجھے جنّت ملی تو میں عرض کروں گا :  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ بی بی میرے ساتھ رہے ۔  حُسینی دُولھا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے اجازت لے کر



Total Pages: 6

Go To