Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

اللہ المبینکے دامن سے لپٹے رہنے کی تاکید ، اسلامی بھائیوں  کو دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنے کی ترغیب اور مَدَنی ما حول سے حقیقی معنوں  میں  وابستگی کے بیان نے اس رسالے میں  مَدَنی کشش پیدا کردی ہے ۔  مَدَنی پھول نمبر 123اور 124میں  لکھی گئی مدنی التجاء نے آپس کی ناچاقیوں  کا علاج تجویز کردیا ہے۔ اگرہم ان مدنی پھولوں  کو اپنے دل کے مدنی گلدستے میں  سجانے میں  کامیاب ہو جائیں  تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارا پورا وُجود معطر ہوجائے گا اور یہ معاشرہ علم وعمل کی ان خوشبوؤں  سے مہک اٹھے گا ۔’’تذکرۂ امیرِاہلسنّت‘‘کی اب تک 4قسطیں  شائع ہوچکی ہیں  ، پانچویں قسط ’’علم وحکمت کے 125 مَدَنی پھول‘‘ کے نام سے پیش کی جارہی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ   ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابق عمل اور مَدَنی قافلوں  کا مسافربنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

شعبہ امیرِ اہلسنّت (دامت برکاتُہم العالیہ)   مجلس اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیۃ (دعو تِ اسلامی )

 ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۳۱ ھ بمطابق 24جولائی 2010 ء

سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مِیراث

        حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ بازار میں  تشریف لے گئے اور بازار کے لوگوں  سے کہا :  تم لوگ یہاں  پر ہو! اور مسجد میں  تاجدار ِ مدینہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی مِیراث تقسیم ہورہی ہے۔ یہ سُن کر لوگ بازار چھوڑ کر مسجد کی طرف گئے اور واپس آکر حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ   رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ ہم نے مِیراث تقسیم ہوتے تو دیکھا نہیں ، آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ پھر تم لوگوں  نے کیا دیکھا؟ اُن لوگوں  نے بیان کیا کہ ہم نے ایک گروہ دیکھا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر اور تِلاوتِ کلامِ پاک میں  مَصروف ہے اور علمِ دین کی تعلیم میں  مَصروف ہے، حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : ’’ سرکارِ مدینہصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی یہی تو میراث ہے۔‘‘

( مَجْمَعُ الزَّوائِد ج۱ص۳۳۱حدیث۵۰۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

’’بسم اللہ ‘‘کے سات حُرُوف کی نسبت سے علمِ دین کی فضیلت پر مشتمل 7 فرامینِ مصطفیٰصلی اللہ تعا لٰی علیہ واٰلہ وسلم

(1) عظیم نعمت

           اللہ عَزَّوَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے۔(صَحیح بُخاری ج ۱ ص ۴۳ حدیث ۷۱)

(2)گناہوں  کی معافی

          جو بندہ علم کی جُستُجو میں  جُوتے ، موزے یا کپڑے پہنتا ہے تو اپنے گھر کی چوکھٹ سے نکلتے ہی اُس کے گناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں ۔(طبرانی اوسط ، باب المیم ، الحدیث۵۷۲۲ ، ج ۴ ص ۲۰۴)

(3) لَوٹنے تک راہِ خدا میں

          جو علم کی تلاش میں  نکلتاہے وہ واپس لوٹنے تک اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی راہ میں ہوتا ہے۔(جامع ترمذی، کتاب العلم ، الحدیث۲۶۵۶، ج۴، ص۲۹۴)

(4) راہِ علم میں  انتقال کرنے والاشہید ہے

 



Total Pages: 41

Go To