Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

جگہ میں  ایک پرانی قبر قیامِ     مسجد سے پہلے کی ہے ، قبر کے سامنے ایک صحن ہے ضرورت کے وقت نمازی اس صحن میں  بھی کھڑے ہو جاتے ہیں  ، مگر نمازیوں  کو(قبر کی طرف منہ کرنے کے حوالے سے)پریشانی ہوتی ہے ، کیا ہم اسکو پاٹ کر برابر کر دیں  تا کہ نماز پڑھنے میں  نمازیو ں  کو سہولت رہے ؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                         

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط              

 اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اللھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ

          قَبر اُبھرے ہوئے مٹی کے تَودے کا نام نہیں ، میِّت قَبر کے جس حصے میں  دَفن ہے اصل میں  قبر وُہی جگہ ہے لہٰذا پاٹ کر فرش بنا دینے سے قبر ختم نہ ہو جائے گی اور قبر پر چلنا، اُس پر کھڑے ہو کر بلکہ اُس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، ردُّ الْمُحْتَار میں  ہے’’تَکْرَہُ الصَّلٰوۃُ عَلَیْہِ وَاِلَیْہِ  لِوُرُوْدِ النَّھْیِ عَنْ ذَالِکَیعنی قبر پر اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ رسولُ اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا ہے۔‘‘(رد المحتار علی الدر المختار، ج۳، ص۱۸۳ دار المعرفہ بیروت)، لہٰذا اُس قبر کے گرد ایک ایک ہاتھ چھوڑ کر چار دیواری بنا لیجئے اور اس پر چھت بنا لیجئے ۔ اب اُس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہو جائے گا ۔بہتر یہ ہے کہ اس چاردیواری کے جانبِ قبلہ اور دائیں  بائیں  اُوپر کی طرف جالیاں  بنا دیجئے تا کہ لوگ اُس چاردیواری ہی کو قبر نہ سمجھیں  اور قبر کو بھی ہوا پہنچتی رہے ، قبر کو ہوائیں  لگناباعثِ نزولِ رحمت ہے ۔

(فتاوی رضویہ مخرجہ، ج۸، ص۱۱۴ملخصًا)

 مَدَنی مشورہ : قبر کے بارے میں  مزید شرعی معلومات حاصل کرنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 842تا852 کامطالعہ کر لیجئے۔بشمول اِس کتاب کے مکتبۃ المدینہ کے دیگر رسائل، کتب، کیسٹیں  اور V.C.DS. دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ  www.dawateislami.net پر پڑھے اور حاصِل کئے جاسکتے ہیں  ۔

وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ سَلَّمَ

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3) وُضُو میں  مِسواک کا مسئلہ

سوال : کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں  کہ

(۱)’’ وُضُو میں  مِسواک کرنا سُنَّت ہے۔‘‘ اِس سے کونسی سُنَّت مُرادہے ؟ سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ یا غیرِ   مُؤَکَّدَہ  اور(۲) مِسواک کی لمبائی کتنی ہو نی چاہئے اور(۳) اِس کا طریقۂ اِستعمال بھی اِرشاد فرمادیجئے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط 

 اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ

 (۱)  وُضُو میں  مِسواک  سُنَّت ِغیرِمُؤَکَّدَہ ہے البتہ تَغَیُّرِ رَائِحَہ (یعنی منہ میں  بدبو ) ہوتو اُسکا اِزالہ ہونے تک سُنَّت مُؤَکَّدَہہے۔(فتاوی رضویہ مخرجہ،



Total Pages: 41

Go To