Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

(106 )اَسبابِ سِتّہ یہ ہیں  : (۱)ضرورت (۲)حرج (۳)عُرف (۴)تعامُل(۵)حُصولِ مَصلَحتِ دینیہ (۶)دفعِ مُفسدات     

(فتاوٰی رضویہ جلد اوّل مُخرّجہ ص۱۱۰)

ذہین طالبِ علم کو تکبُّر کازیادہ خطرہ ہے

(107)ذہین طالبِ علم کے لئے تکبُّر کی آفت میں  ابتِلاء کا خطر ہ زیادہ ہے لہٰذا ایسے کیلئے بَہُت چوکنّا رہنے کی ضَرورت ہے۔حضرت سیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حدیثیں  تلاش کرنے والے ایک شخص سے فرمایا :  ’’اللہ تعالیٰ سے ڈر اور مجلس میں  نیچے رہنے پر ہی راضی رہ اور کسی کو اذیَّت نہ دے کیونکہ اگر تیرا علم زمین و آسمان کے مابَین ہر چیز کو بھر دے مگر اس کے ساتھ عُجب یعنی تکبُّر بھی شامل رہا تواللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تیری پستی اور نقصان کو ہی زیادہ کرے گا۔‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۲۰۰ )

جس کی تعظیم کی گئی وہ امتِحان میں  پڑا !

(108) عالمِ دین کی دست و پابوسی وغیرہ اگر چِہ تعظیم کرنے والے کے لئے باعثِ سعادت اورمُوجِبِ ثوابِ آخِرت ہے مگر جس کی تعظیم کی گئی وہ سخت امتحان میں ہوتا ہے۔حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عَبدوس علیہ رحمۃ اللہ القدوس فرماتے ہیں :  ’’جب کسی عالم کی تعظیم ہو اور وہ بلند مرتبہ پانے لگے تو خود پسندی(یعنی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے والی مذموم صفت) تیزی سے اس کی طرف آتی ہے البتّہ جسیاللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی توفیق سے محفوظ رکھے اور حُبِّ جاہ اُس کے دل سے نکال دے۔ ‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۲۰۰ )

جب اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتکے کسی نے قدم چومے۔۔۔۔

          میرے آقااعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کی عاجِزی کا واقِعہ ملا حظہ ہو چُنانچِہ حضور(اعلیٰ حضرت) ایک صاحِب کی طرف  مُتَوَجِّہ ہو کر حکمِ مسئلہ ارشادفرما رہے تھے ۔ ایک اور صاحِب نے یہ موقع قدم بوسی سے فیضیاب ہونے کا اچّھا سمجھا ، قدم بوس ہوئے(یعنی قدم چوم لئے) ، فوراً (اعلیٰ حضرت کے)چہرۂ مبارَک کا رنگ مُتَغَیَّر(یعنی تبدیل)ہوگیا اور ارشاد فرمایا :  اِس طرح میرے قلب کو سخت اذِیَّت ہوتی ہے ، یوں  تو ہر وقت (میری)قدم بوسی (میرے لئے)ناگوار ہوتی ہے مگر دو صورَتوں  میں  سخت تکلیف ہوتی ہے (۱)ایک تو اُس وقت کہ میں  وظیفے میں  ہوں  (۲) دوسرے جب میں  مشغول ہوں  اور غفلت میں  کوئی قدم بوس ہو کہ اُس وقت میں  بول سکتا نہیں ۔ (پھرفرمایاکہ) میں  ڈرتا ہوں ، خداعَزَّوَجَلَّوہ دن نہ لائے کہ لوگوں  کی قدم بوسی سے مجھے راحت ہو اور جو قدم بوسی نہ ہو تو تکلیف ہو کہ یہ ہلاکت ہے۔ (پھر فرمایا) تعظیم اِسی میں  ہے کہ جس بات کومَنع کیا جائے وہ پھر نہ کی جائے اگر چِہ دل نہ مانے۔    (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت  ص ۴۷۳)

 ع   واہ! کیا بات اعلیٰ حضرت کی

 عَزَّوَجَلَّ اورصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم   لکھا کیجئے

(109)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مبارَک نام کے ساتھ ہر بار’’ تعالیٰ‘‘، یا’’جلَّ جَلا لُہٗ‘ یا’’عَزَّوَجَلَّ‘‘ وغیرہ لکھ بول کر ثواب لُوٹیے۔حُضُورتاجدارِ مدینہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے نامِ نامی کے ساتھ ہر بار دُرودپاک پڑھنا واجِب ہے یا نہیں  اس میں  علماء کا اختلاف ہے ، سارے مضمون میں  اگر چِہ ایک بار پڑھنا یا لکھنا بھی ادائے واجِب کیلئے بعض علماء کے نزدیک کافی ہے مگر نامِ نامی زَبان سے لینے یا مضمون میں  لکھنے میں  ہر بار دُرُود شریف نہ پڑھنے یا نہ لکھنے میں ثوابِ عظیم سے ضَرورمحرومی ہے۔اس کی مزید معلومات کیلئے فتاویٰ رضویہ مخرجہ جلد 7صفحہ نمبر 390اور جلد 6پرصفحہ



Total Pages: 41

Go To