Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

الْعِلْمَ بِالْکِتَابَۃِ یعنی علم کو لکھ کر قید کرلیا کرو۔ ( المعجم الکبیر للطبرانی، ج۱، ص۲۴۶، الحدیث۷۰۰)حضرت سیِّدُنا عصام بن یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے مفید باتیں  لکھنے کیلئے ایک دینارمیں  قلم خرید فرمایا تھا۔ (تعلیم المتعلم، ص۱۰۸)

(97)علمِ دین کی بات لکھ لینے سے جلدی یاد بھی ہو جاتی اور اس کی بَقاء کی صورت بھی پیدا ہوتی ہے۔تابعی بُزُرگ حضرت سیِّدُنا ابو قِلابہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مقولہ ہے :  بھول جانے سے لکھ لینا کہیں  بہتر ہے۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۰۳)علمِ نحو کے مشہور امام حضرت خلیل بن احمد تابعی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا قول ہے :  ’’جو کچھ میں  نے سنا ہے، لکھ لیا ہے اور جو کچھ لکھا ہے، یاد کر لیاہے اور جو کچھ یاد کیا ہے، اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘(ایضًا ، ص ۱۰۵ )

    اُونگھتے ہوئے مُطالَعَہ مت کیجئے

(98)اسلامی کُتُب کاخوب مُطالَعَہ کرتے رہنا چاہئے ، اس طرح ذِہن کُھلتا ہے۔مگراُونگھتے اُونگھتے پڑھنا غَلَط فَہمیوں  میں ڈال سکتا ہے۔ اُونگھتے ہوئے نَماز بھی نہ پڑھے ، پہلے کسی طرح نیند زائل کرے نیز اس حالت میں  دُعا بھی نہیں  مانگنی چاہئے کہیں  ایسا نہ ہو کہ کہنے جائے کچھ اورمنہ سے نکلے کچھ۔فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد 6صَفْحَہ 318پر ہے : صحیح حدیث میں  ہے، رسولُ اللہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمفرماتے ہیں :  جب تم میں  کسی کونَماز میں  اُونگھ آئے تو سو جائے یہاں  تک کہ نیند چلی جائے کہ اُونگھتے میں  پڑھے گا تو کیا معلوم شاید اپنے لئے دعائے مغفِرت کرنے چلے اور بجائے دعا، بد دُعا نکلے۔(مُؤَ طَّالامام مالک ، ماجا ء فی صلوٰۃ اللّیل، ج۱، ص ۱۲۳، فتاوٰی رضویہ ج۶ ص۳۱۸ ) ایسے حالات ہی پیدا نہ ہونے دیجئے کہ اُونگھ چڑھے، نَمازِ باجماعت کیلئے پہلے ہی سے اپنے آپ کو مُستَعِد (یعنی تیار)کر لیجئے ۔ اگر رات جاگنے یا کم سونے سے نَماز میں  اُونگھ چڑھتی ہے تو رات مت جاگئے اور نیند پوری کیجئے۔ نَماز تو نَماز مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّجماعت بھی نہیں  چُھوٹنی چاہئے۔

حدیث پاک : ’’اَلْعِلْمُ اَفضَلُ مِنَ الْعِبَادَۃِ‘‘کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے دینی مُطالَعَہ کرنے کے 18مَدَنی پھول

(۱)اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا اور حُصولِ ثواب کی نیَّت سے مُطالَعَہ کیجئے۔

(۲)مُطالَعَہ شروع کرنے سے قبل حمد و صلوٰۃ پڑھنے کی عادت بنایئے، فرمانِ مصطَفٰے صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ہے :  جس نیک کام سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمد اور مجھ پر دُرُود نہ پڑھا گیا اس میں  بَرَکت نہیں  ہوتی۔(کنزالعمال ج۱، ص۲۷۹، حدیث ۲۵۰۷) ورنہ کم از کم بسم اللہ شریف تو پڑھ ہی لیجئے کہ ہر صاحِبِ شان کام کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہیے [1]؎ ۔ (ایضًا، ص۲۷۷حدیث ۲۴۸۷)

( ۳)دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’جنات کا بادشاہ‘‘کے صَفْحَہ23پر ہے : قبلہ رُو بیٹھئے کہ اِس کی بَرَکتیں  بے شُمار ہیں  چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراہیم زَرنوجی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں  :  دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے، دو سال تک دونوں  ہم سبق رہے، جب وطن لوٹے تو ان میں  ایک فَقِیہ (یعنی زبردست عالم ) بن چکے تھے جبکہ دوسرا علم و کمال سے خالی ہی رہا تھا۔ اُس شہر کے عُلَمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السلام نے اِس اَمْر پر خوب غَور و خَوض کیا، دونوں  کے حُصولِ علم کے طریقۂ کار ، اندازِ تکرار اور بیٹھنے کے اَطوار وغیرہ کے بارے میں  تحقیق کی تو ایک بات جو کہ نُمایاں  طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو فَقِیہ بن کے پلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقت قِبلہ رُوبیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کا کَور ا پلٹا تھا وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے



1    اِس رسالے کے شروع میں دی ہوئی حمد و صلوٰۃ پڑھ لی جائے تواِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں  حدیثوں  پر عمل ہو جائیگا۔

 



Total Pages: 41

Go To