Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

(تعلیم المتعلم، ص۷۴)

مخصوص اَحکام کا ہر سال نئے سِرے سے مُطا لَعَہ کیجئے

(81)میرے مَدَنی عالمو! ہر سال قربانی کے دنوں  میں  قربانی کے اورماہِ        رمَضانُ الْمبارَک کے قریب روزہ، تراویح، صَدَقۂ فِطر اور زکوٰۃوغیرہ کے احکام ازسرِ نو پڑھ لیا کریں  تاکہ پوچھنے والے مسلمانوں  کی رہنُمائی سہل اور آپ کیلئے جنّت کا داخِلہ آسان ہو۔مصطَفٰے جانِ رحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنَّت، مَنبعِ جُودوسخاوت، سراپا فضل و رحمت صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے : ’’جو کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرائض سے متعلِّق ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچّھی طرح یا د کرلے اور پھر لوگوں  کو سکھائے تووہ جنّت میں ضَرور داخِل ہوگا۔‘‘ (اس حدیثِ پاک کے راوی)حضرت ِسیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں  : ’’رسولُ اللہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم سے یہ بات سننے کے بعد میں  کوئی حدیث نہیں  بُھولا۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب، رقم۲۰، ج۱، ص۵۴)اِس حدیثِ مبارَکہ میں مُبلِّغین و مبلِّغات کیلئے کافی ترغیب موجود ہے کہ وہ بھی بیان کی خوب خوب تیّاری فرمائیں  ، فرائض کو یاد کرنے کی عادت بنائیں  ، مسلمانوں  کوسکھائیں اور خود کو جنّت کا حقدار بنائیں ۔

مُفتی کا سُکوت مسئلے کی تصدیق نہیں

(82)کسی اجتماع یا مجلس میں ایک عالم ومفتی کا کسی مسئلے کو سن کر سُکوت کرنا اسکی طرف سے مُہرِ تصدیق نہیں  ہے۔عالم جب تک کسی مسئلے کے بارے میں  زَبان یا قلم سے تصدیق یا کسی طرح کے اشارے کنائے سے تَوثِیق نہ کرے اس مسئلے کو اس کی طرف سے مُصَدَّقہ نہ مانا جائے۔

(83)آپ جس قَدَرمنجھے ہوئے مُفتی بن کر نکلیں  گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسی مقَدَر دعوتِ اسلامی والوں  اور عام مسلمانوں  کو آپ کے ذَرِیعے فیض زیادہ ملیگا۔لہٰذا خوب دل لگا کرتَحصیلِ علم میں  مشغول رہئے ۔

(84) بعض اوقات لکھنے یا بولنے میں  الفاظ مُطلَق ہوتے ہیں  لیکن مُسْتَثْنِیات بھی ہوتے ہیں ۔ لہٰذا کوئی بھی مسئلہ پڑھنے کے باوجود آگے بیان کرنے سے پہلے غور و فکر بھی کر لینا چاہیے اور موقع محل کو بھی سامنے رکھنا چاہیے، مثلاًبہارِ شریعت حصہ 16صفحہ 23پرہے کہ ’’باغ میں  پہنچا وہاں  پھل گرے ہوئے تھے تو جب تک مالک کی اجازت نہ ہو پھل نہیں  کھا سکتا ۔‘‘ مگراس حکم میں  اِضطراری حالت کااستثناء ہے جیسا کہ بہار شریعت ہی میں  ہے ’’اضطرار کی حالت میں  یعنی جب جان جانے کا اندیشہ ہے اگر حلال چیز کھانے کے لئے نہیں  ملتی تو حرام چیز یا مُردار یا دوسرے کی چیز کھا کر اپنی جان بچائے اور ان چیزوں  کے کھالینے پر اس صورت میں  مؤاخذہ نہ ہوگا بلکہ نہ کھا کر مر جانے میں  مؤاخذہ ہے اگرچہ پرائی چیز کھانے میں  تاوان دینا ہوگا۔‘‘ (بہار شریعت حصہ ۱۶ ص۱۶مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)

عالم کو علمِ تصوُّف سے مَحروم نہیں  رہنا چاہئے

(85)جو شخص خواہ بَہُت بڑا عَلَّامہ فَہّا مہ بن گیا مگر تصوُّف کے بارے میں اُس نے کافی معلومات حاصِل نہ کیں  یا کسی صوفیٔ باصفا کی صُحبت نہ پائی تب بھی بے شک وہ عالمہی ہے مگر ایک طرح سے اس میں  بَہُت بڑی کمی رہے گی۔

(86) اِحیاء ُالعلوم، مِنہاج العابدین ، لُباب الاِحیاء، قُوْتُ القُلوب ، کشفُ المَحجوب ، تَنبیہُ الْمُغْتَرِّین اور رِسالۂ قُشَیریہ وغیرہ کُتُبِ تصوُّف کا مطالَعَہ کرتے رہیں  گے توخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں  خوب اضافہ ہو گا، گناہوں  سے بچنے اور نیکیاں  کئے جانے کا جذبہ ملیگا، باطِن میں  چمک دمک آئے گی اور خوب ہرے بھرے رہیں  گے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ

دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کیجئے

(87)میں (سگِ مدینہ عفی عنہ)دعوتِ اسلامی کے عاممُبَلِّغِین اور اپنے مَدَنی عُلَما کے مابَین ہر دم مَحَبَّت ومَوَدَّت کی فَضا دیکھنا چاہتا



Total Pages: 41

Go To