Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

ایک مَدَنی پھول حاضِر کرتا ہوں :  صحابیٔ رسول، حضرتِ سیِّدُنا شدّاد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بوقتِ وفات فرمایا :  اِس امّت کے حق میں  مجھے سب سے زیادہ خوف ریا کاری اور مخفی (یعنی چھپی)شہوت کا ہے۔حضرتِ سیِّدُناسُفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہاں ’’ مخفی شہوت ‘‘ کے معنیٰ یہ ارشاد فرمائے ہیں :  یعنی نیکی پر تعریف کی خواہش ہونا۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۲۴۸، ۲۴۹دار الکتب العلمیہ بیروت)

قَصداً غَلَط مسئلہ بتانا حرام ہے

(71)مفتی کوبے حدمحتاط رہنا ہو گا، اس کی راہ میں  امتحانات بَہُت ہیں اگر ایک بھیمسئلہ شرم یا مُرُوَّت وغیرہ کی وجہ سے جان بوجھ کر غَلَط بتادیا تو گناہ و حرا م اور جہنَّم میں  لے جانے والا کام ہو گا۔ ہاں  اگر عالم سے انجانے میں  مسئلہ بتانے میں  تَسامُح (غلطی) ہو جائے تو پتا لگنے پر اگرچِہ توبہ لازم نہیں  تاہم فوراً اسکا اِزالہ فرض ہے۔ ازالے کا طریقہ یہ ہے کہ جس کوغَلَط مسئلہ بتایا ہے اُس کو مُطَّلع کرے کہ فُلاں  مسئلہ بتانے میں  مجھ سے خطا ہو گئی ہے۔ اگر ایک کے سامنے خطا کی تو اُسی ایک کے سامنے اور اگر ہزاریا ہزاروں  کے اجتماع میں  غلطی ہوئی تو ان سب کے سامنے اِزالہ کرنا ہوگا۔

اگر عالم بھول کر غَلَط مسئلہ بتا دے تو گناہ نہیں

          میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں : ’’ ہاں  اگر عالِم سے اِتِّفاقاً سَہو(بھول) واقِع ہو اور اُس نے اپنی طرف سے بے اِحتِیاطی نہ کی اور غَلَط جواب صادِر ہوا تومُؤاخَذَہ (مُ۔آ۔خَ۔ذَہ)  نہیں  مگر فرض ہے کہ مُطَّلع ہوتے ہی فوراً اپنی خطا ظاہِرکرے۔‘‘

(فتاوٰی رضویہ  ج۲۳ ص۷۱۲)

اِزالے کی بہترین حِکایت

          بیان کیا جاتا ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بن زِیاد  علیہ رَحمَۃُ ربِّ العِباد سے کسی شخص نے سُوال کیا ، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے اس کو جواب دیا لیکن اس میں  تسامُح ہو گیا(یعنی غلطی ہو گئی) اُس شخص کو جانتے نہیں  تھے لہٰذا  اس غَلَطی کی تَلافی (اِزالے) کیلئے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک شخص کو بطورِ اَجِیر (یعنی اُجرت پر) لیا جو یہ اعلان کرتاتھا کہ :  جس نے فُلاں  دن ، فُلاں  مسئلہ پوچھا تھا اس کے دُرُست جواب کے لیے حضرت سیِّدُنا حسن بن زِیاد علیہ رَحْمَۃُ ربِّ العِباد  کی طرف رُجوع کرے ۔ حضرت سیِّدُنا حسن بن زِیاد علیہ رَحْمَۃُ ربِّ العِباد نے کئی روز تک فتویٰ نہیں  دیا یہاں  تک کہ وہ(مطلوبہ) شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ بابَرَکت میں  حاضِر ہوا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس کو دُرُست مسئلہ بتایا۔

(  اَدبُ المُفتِی والمُسْتَفْتِی لابْنِ الصَّلاح ، ص ۴۶ مُلَخَّصاً ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں  مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آگ پر زیادہ جُرأَ ت کرتا ہے!

(72)اگر کسی مسئلے کا جواب نہ آتا ہو تو’’لَااَعْلَمُ یعنی میں  نہیں  جانتا‘‘کہنے میں  شرم محسوس نہ کیجئے ۔افسوس! آج کل تو شاید بعضو ں  کو لَا اَعلَمُ (یعنی میں  نہیں  جانتا)کہنا ہی نہیں  آتا !ہر مسئلے کا جواب دینا گویاان کیلئے واجِب ہے اور ذِہن یہ بن گیا ہے کہ نہیں  بتائیں  گے تو بے عزّتی ہو جائے گی، حالانکہ ایسا نہیں  ۔ حقیقت میں  ذلیل وخوار بلکہ عذابِ نار کا حقدار تو وہ ہو گا جو اِس دارِناپائدارمیں محض بھرم رکھنے کیلئے غلط مسئلے (مَس۔ئَ۔لے)بتانے سے گُرَیز نہیں  کر تا ہوگا



Total Pages: 41

Go To