Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

درجہ حاصل ہوتا ہے جبکہ 4000فتاوٰی لکھنے والے کو مفتی کا درجہ حاصل ہوتا ہے ، لیکن ان تمام درجات کو حاصل کرنے کے لئے صرف فتاوٰی ہی نہیں  بلکہ ہر درجے کے لئے مقررہ مطالعہ کے ساتھ ساتھ اطمینان بخش کارکردگی بھی ضروری ہے ۔

غیرِ مفتی کا مفتی کہلانے کو پسند کرنے کا عذاب

(65)         ہمارے یہاں آ ج کل عُموماً ہر عالم کو ’’ مفتی‘‘ کہا جانے لگا ہے!اس میں  عالم صاحِب کا گو قُصُور نہیں  تا ہم انہیں  چاہئے کہ اگر وہ مفتی کی شرائط پر پورے نہیں  اترتے تو مُفتی کہنے والوں  کومَنع فرماتے رہیں ۔جو مفتی یا عالم نہیں  اُس کا پسند کرنا کہ مجھے لوگ مفتی یا عالم کہا کریں ، اُسے ڈرنا چاہئے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِاَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ  مُخَرَّجہ جلد 21، صَفْحَہ 597 پر فرماتے ہیں : (جو) اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھے (یعنی پسند کرے)کہ لوگ اُن فضائل سے اِس کی ثناء (یعنی تعریف) کریں  جو اِس میں  نہیں  جب تو صریح حرامِ قَطْعی ہے۔  قالَ اللہ تعالٰی(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے) :

 لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  وَّ  یُحِبُّوْنَ  اَنْ  یُّحْمَدُوْا  بِمَا  لَمْ  یَفْعَلُوْا  فَلَا  تَحْسَبَنَّهُمْ  بِمَفَازَةٍ  مِّنَ  الْعَذَابِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ(۱۸۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : ہرگز نہ سمجھنا انہیں  جوخوش ہوتے ہیں  اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں  کہ بے کئے ان کی تعریف ہو۔ ایسوں  کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔  (پ۴ اٰل عمران ۱۸۸)    (فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۵۹۷)

        صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس آیتِ مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : اِس آیت میں  وعید ہے خود پسندی کرنے والے کے لئے اور اس کے لئے جو لوگوں سے اپنی جھوٹی تعریف چاہے جو لوگ بِغیر علم اپنے آپ کو عالم کہلواتے ہیں  یا اسی طرح اور کوئی غَلَط وَصف(غَلَط تعریف) اپنے لئے پسند کرتے ہیں ۔ اُنہیں  اس سے سبق حاصِل کرنا چاہئے۔ (خزائنُ العرفان ص۱۲۰) حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں : منقول ہے :  کچھ گناہ ایسے ہیں  جن کی سزا بُرا خاتمہ ہے ہم اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں ۔ کہا گیا ہے :  یہ گناہ ولایت اور کرامت کاجھوٹا دعویٰ کرنا ہے۔          (احیاء علوم الدین، ج۱ ، ص ۱۷۱ دار صادر بیروت)

اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کی عاجزی

          میرے آقا اعلیٰ حضرت شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن جنہیں  55سے زائد علُوم وفنون پر عُبور حاصل تھا ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی علمی وجاہت، فقہی مہارت اور تحقیقی بصیرت کے جلوے دیکھنے ہوں  تو فتاوٰی رضویہ دیکھ لیجئے جس کی (تخریج شدہ ) 30جِلدیں  ہیں ۔ ایک ہی مفتی کے قلم سے نکلا ہوا یہ غالباً اُردو زبان میں  دنیا کا ضَخیم ترین مجموعۂ فتاویٰ ہے جو کہ تقریباً بائیس ہزار (22000) صَفَحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتا لیس (6847) سُوالات کے جوابات اور دو سو چھ (206)رسائل پر مُشتَمِل ہے۔ جبکہ ہزارہا مسائل ضِمناً زیرِ بَحث آئے ہیں ۔ایسے عظیم ُالشَّان عالِمِ دین اپنے بارے میں  عاجزی کرتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ’’فقیر تو ایک ناقِص، قاصِر، ادنیٰ طالب علم ہے ، کبھی خواب میں  بھی اپنے لئے کوئی مرتبۂ علم قائم نہ کیا اور بِحَمْدِہٖ تَعَالٰیبظاہر اَسباب یہی ایک وجہ ہے کہ رحمتِ الہٰی میری دستگیری فرماتی ہے، میں  اپنی بے بضاعتی(یعنی بے سروسامانی) جانتا ہوں ، اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں ، مصطَفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّماپنے کرم سے میری مدد فرماتے ہیں  اور مجھ پر علمِ حق کا اِفاضہ فرماتے (یعنی فیض پہنچاتے)ہیں اور اُنہیں  کے رب کریم کے لیے حمد ہے، اور ان پر اَبدی صلوٰۃ وسلام۔‘‘(فتاوٰی رضویہ، ج۲۹، ص۵۹۴) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں  : ’’کبھی میرے دل میں  یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں  عالِم ہوں ۔‘‘ (فتاوی رضویہ مخرَّجہ، ج۱، ص۹۳)

 



Total Pages: 41

Go To