Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

اور دوسروں  کے مشوروں  سے مُستَغنِی (یعنی بے پرواہ)ہو وہ کبھی خوش بخت نہیں  ہوتا۔  (الجامع لاحکام القرآن الجزء الرابع ص ۱۹۳ )یقینا ہمارے مکّی مدنی آقا صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّممشورے کے محتاج نہیں  تھے مگر صَحابۂ کرام علیہم الرضوان سے مشورہ کر کے ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کے مناسب مشورے بخوشی قَبول فرما لیتے جس کی روشن مثالیں  غزوۂ اَحزاب (غزوۂخندق) میں  حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رائے پر خندق کھود کر اور غزوۂ اُحد میں  میدان میں  جنگ کر نا ہیں  ۔

 ہر لِفافے میں  رسالہ ڈالئے

(57)ہر تحریری فتوے کے لفافے میں  مو ضوع کی مناسَبَت سے مکتبۃ المدینہ کا ایک جَیبی سائز رِسالہ یا مَدَنی پھولوں  کا پرچہ(یا دونوں )ڈالئے ۔ دارالافتاء آکر بِالمُشافہ پوچھنے والوں  کو بھی ان  کے حسبِ حال رسالہ وغیرہ پیش کیجئے۔جس کے ساتھ رسالہ دیا جائے اُس تحریری فتوے کے آخِر میں  مسلمان کی دلجوئی اورنیکی کی دعوت کاثواب کمانے کی نیّت سے اِس طرح کی عبارت ہو، مَدَنی سوغات : رسالہ تحفۃً حاضرِخدمت ہے، برائے کرم! از ابتداء تا انتہا مکمَّل پڑھ لیجئے اورہو سکے تو مکتبۃ المدینہ سے کم از کم 12رسائل ھَدِیّۃً حاصِل کرکے اپنے مرحوم عزیزوں  کے ایصالِ ثواب کی نیّت سے تقسیم فرما دیجئے۔ جَزاک اللہُ خیراً۔

( 58)’’مَدَنی مشورہ‘‘ اور ’’مَدَنی اِلتِجاء‘‘ کے عِلاوہ ضَرورتاً ’’تَنبِیہ ‘‘، ’’مَدَنی پھول‘‘ وغیرہ بھی فتوے کے آخِر میں  لکھ سکتے ہیں ۔

مُجتَہِد ہی حقیقی مفتی ہو تا ہے

(59)’’مُجتَہِد‘‘(مُجْ۔تَ۔ھِد)ہی حقیقی ’’مُفتی ‘‘ہوتا ہے۔(بہارِ شریعت، ج۲ ، حصہ۱۲، ص۹۰۸ملخصا)اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں  : عرصۂ دراز سے دنیا مُجتہِد سے خالی ہے۔(فتاوٰی رضویہ مخرَّجہ ج ۱۲ ص۴۸۲)فی زمانہ سارے کے سارےمفتیانِ کرام، ’’مفتیانِ ناقِلین ‘‘ ہیں ، یہ حضرات صرف مجتہدین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کے فتاویٰ کی روشنی میں  فتویٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔

( 60)بے شک ’’مفتیٔ ناقِل ‘‘ہونا بھی بڑے شَرَف کی بات ہے، اس مقام تک پہنچنے کے لئے بھی بہت ساری منزلیں  طے کرنا پڑتی ہیں  ، بہت زیادہ علم اور نہ جانے کس کس فن میں  مہارت کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ شارِحِ بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ایک مفتی کی قابلیت ، اس کے منصب اور مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’بعض علما دشمن یہ کہہ دیا کرتے ہیں  کہ فتویٰ لکھنا کوئی اہم کام نہیں ، ’’ بہارِ شریعت‘‘ اور’’ فتاوٰی رضویہ‘‘ دیکھ کر ہر اُردو داں  فتویٰ لکھ سکتا ہے ، ایسے لوگوں  کا علاج صرف یہ ہے کہ انہیں  دارالافتاء میں  بٹھا دیا جائے تو انہیں  معلوم ہوجائے گا کہ فتویٰ نویسی کتنا آسان کام ہے!حقیقت یہ ہے کہ فتویٰ نویسی کا کام جتنا مشکل کل تھا، اتنا ہی آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا، نئے واقعات کا رُونما ہونا بند نہیں  ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ فقہائے کرام نے اپنی خدادا د صلاحیتوں  سے قبل از وقت آئندہ رونما ہونے والے ہزاروں  ممکن الوقوع جزئیات کے احکام بیان فرما دیئے ہیں  مگر اس کے باوجود لاکھوں  ایسے حوادث ہیں  جو واقع ہوں  گے اور ان کے بارے میں  کسی بھی کتاب میں  کوئی شرعی حکم موجود نہیں ۔ ایسے حوادث کے بارے میں  حکمِ شرعی کا اِستخراج ’’جوئے شِیر لانے ‘‘سے کم نہیں  مگر یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صریح تائید ، دستگیری فرمائے، یہیں ’’ مفتی ‘‘غیر مفتی سے ممتاز ہوتا ہے، پھراب دارالافتاء، دارُالفقہ نہیں  رہا بلکہ دینی معلوماتِ عامہ کا محکمہ ہوگیا، کسی بھی دارالافتاء میں  جا کر دیکھئے مسائلِ فقہ و کلام کے علاوہ تصوُّف، تاریخ، جغرافیہ ، حتی کہ منطقی سوالات بھی آتے ہیں  اور اب تو یہ رواج عام پڑ گیا ہے کہ کسی مقرِّر نے تقریر میں  کوئی حدیث پڑھی کوئی واقعہ بیان کیا۔مقرر صاحب تو پورے اِعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت ہوگئے، ان سے کسی صاحب نے نہ سند مانگی نہ حوالہ مگر دارالافتاء میں  سوال پہنچ گیا کہ فلاں  مقرر نے یہ حدیث پڑھی تھی یہ واقعہ بیان کیا تھا، کس کتاب میں  ہے؟باب ، صفحہ ، مطبع کے ساتھ حوالہ دیجئے، یہ کتنا مشکل کام ہے !اہلِ علم ہی جانتے ہیں ۔خلاصہ یہ کہ ’’فتویٰ



Total Pages: 41

Go To