Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

( 16) حتَّی الامکان پوچھے گئے سُوال کا پہلے مختصر اًجامِع مانِع جواب دے دیجئے اس کے بعد ضَرورتاً آیات، احادیث، فقہی جُزئیات کی روشنی میں  اپنے مؤقِف(یعنی نکتۂ نظر)کی وضاحت فرمایئے۔

( 17)جواب میں  حسبِ موقع حکایت بھی ڈالی جا سکتی ہے مثلاًکسی نو عمر بالغ شخص سے متعلق سوال ہوا کہ ابھی اس کی داڑھی پوری طرح نہیں  نکلی، ٹھوڑی کے علاوہ کہیں  کہیں  بال ہیں ، کیا یہ پورے چہرے پر بال آنے سے قبل داڑھی کے بال مونڈ سکتا ہے ؟تو اس کے جواب میں  داڑھی کے وجوب کا حکمِ شرعی لکھئے اورپوچھی گئی صورت میں  بھی داڑھی رکھنے کا حکم دیتے ہوئے اور مونڈنے کو حرام قرار دیتے ہوئے بہتر ہے مشہور محدث اور تابعی حضرتِ سیِّدُناابن شہاب زہری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حکایت بھی بیان کردیجئے کہقدرتی طور پر ان کی داڑھی کے صرف چند بال تھے پھر بھی آپ نے انہیں  اپنے چہرے پر سجا رکھا تھا ، اس سے سائل کو بہت ڈھارس ملے گی۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ

( 18)قراٰنِ پاک کی تفسیر بِالرّائے[1]؎ حرام ہے(فتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص۳۷۳)فرمانِ مصطَفٰے صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمہے :  جس نے بِغیر علم قراٰن کی تفسیر کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنَّم بنائے۔( ترمذی ج ۴ ص۴۳۹ حدیث ۲۹۵۹ )

( 19)اپنی اٹکل سے قراٰنی آیات و احادیثِ مبارَکہ سے اِستِدلال مت کیجئے، جو کچھ مفسّرِینِ کرام ومحدّثینِ عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام  نے فرمایا وُہی نقل کردیجئے۔اِلّا یہ کہ خود ایسے عالم بن چکے ہوں ۔

( 20 )اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف کوئی بات منسوب کرتے وَقت 112 بار سوچ لینا چاہیے۔پارہ 24 کی اس ابتِدائی آیت پر غور فرمالیجئے :

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ (پارہ۲۴، الزمر : ۳۲)

ترجَمۂ کنزالایمان : تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔

    اٹکل پچُّو سے جوابڤ مت دیجئے

(21)کسی مسئلے کااٹکل پچُّو سے جواب مت دیجئے جوکچھ اکابر عُلَماءنے لکھا ہے وُہی نقْل کر دیجئے ۔حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالینقل کرتے ہیں :  حضرتِ سیِّدُنا ابو حَفص نیشا پوری  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے تھے :  عالم وہ ہے جسے سُوال کے وَقت اس بات کا ڈر ہو کہ بروزِ قِیامت پوچھا جائے گا کہ تم نے کہاں  سے جواب دیا؟(احیاء علوم الدین، ج ا، ص۱۰۰، دار صادر بیروت) لہٰذا خوب غور وفکر کر کے جواب دیجئے، ثواب کی نیّت کے ساتھ اُمُورِدینیہ کے اندر غور و تفکُّرمیں  گزرا ہوا وَقت ضائع نہیں  جا تا، خوب خوب ثواب کا خزانہ ہاتھ آتا ہے چُنانچِہاللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کافرمانِ رحمت نِشان ہے :   (آخرت کے معاملے میں ) گھڑی بھر کے لیے غورو فکر کرنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِی، ص۳۶۵حدیث ۵۸۹۷) منقول ہے : تَفَکُّرُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِّن عِبَا دَۃِ الثَّقَلَیْن یعنی گھڑی بھرکا تَفَکُّر جنّ و اِنس کی عبادت سے بہتر ہے۔(روح البیان، سورۂ ق ، تحت آیت ۳۷، ج۹، ص۱۳۷)

    واضِح اور مُعَیَّن جواب دیجئے

(22)آپ کا جواب حتی المقدور ایسا واضح اور معین ہونا چاہئے کہ سائل کو اس کا مطلب نہ پوچھنا پڑے ۔اپنی طرف سے بلاضرورت شقیں  بنا کر جواب نہ دیجئے کہ یہ صورت ہے تو یہ حکم ہے ، یہ صورت ہے تو یہ ! سائل پریشان ہوسکتا ہے یا پھر اس کا غلط استعمال بھی کرسکتا ہے ۔

 



1     تفسیر بِالرّائے کرنے والا وہ کہلاتا ہے جس نے قراٰن کی تفسیر عقل اور قِیاس (اندازہ) سے کی جس کی نقلی(یعنی شرعی) دلیل و سند نہ ہو۔مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں : قراٰنِ پاک کی بعض چیزیں  نقل پر موقوف ہیں  جیسے شانِ نزول، ناسخ منسوخ، تجوید کے قواعد انہیں  اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے اور بعض چیزیں  شرعی عقل (یعنی قیاس) سے بھی معلوم ہوسکتی ہیں  جیسے آیات کے علمی نکات اچھی اور صحیح تاویلیں ، پیدا ہونے والے اعتراضات کے جوابات وغیرہ ان میں  نقل لازم نہیں  غرض کہ قراٰن کی تفسیر بالرائے حرام ہے اور تاویل بالرائے علمائے دین کے لیے باعثِ ثواب۔(مراٰۃ المناجیح، ج۱، ص۲۰۸)    



Total Pages: 41

Go To