Book Name:Samandari Gumbad

حُقُوق‘‘ دیکھنے کی بَرَکت سے مجھے احساس ہوا کہ میں نے والِدَین کی نافرمانی کر کے بَہُت بڑا گناہ کیا ہے ، چُنانچِہ مُعافی مانگنے کیلئے ہاتھوں ہاتھ بیوی، بچّوں سمیت والِدَین کی خدمت میں حاضِری کیلئے جا رہا ہوں ، اللّٰہ تعالٰی دعوتِ اسلامی اور’’ مَدَنی چینل ‘‘کو دن دُگنی اور رات چوگنی ترقّی عطافر مائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 

راہِ سنّت پر چلا کر سب کو جنّت کی طرف

لے چلے بس اِک یِہی ہے مَدَنی چَینل کا ہَدَف

یاخدا ہے التِجا عطاّرؔ کی

سنَّتیں اپنائیں سب سرکار کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ماں  کی بد دعا سے ٹانگ کٹ گئی

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس مَدَنی بہارسے ’’مَدَنی چینل‘‘ کی اِفادِیت معلوم ہوئی  ۔ اِس ’’ مَدَنی بہار‘‘ میں ’’ ماں باپ کے حُقُوق‘‘ کا تذکِرہ ہے ، واقِعی ماں باپ کے حُقُوق سے عُہدہ برآ ہونا نہایت دشوارہے ، اِس کیلئے عمر بھر کوشاں رہنا ہو گااور ماں باپ کی ناراضی سے ہمیشہ بچنا ہو گا ۔  جو لوگ ماں باپ کوستاتے ہیں اُن کا دنیا میں بھی بھیانک انجام ہوتا ہے چُنانچِہ حضرتِ علّامہ کمالُ الدّین دَمیری علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القوی نَقل کرتے ہیں : ’’زَمَخْشَری‘‘ (جو کہ مُعتزِلی فرقے کا ایک مشہور عالم گزرا ہے اُس)کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ، لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے انکِشاف کیا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے ، قِصّہ یوں ہوا کہ میں نے بچپن میں ایک چِڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں ڈوری باندھ دی ، اِتِّفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دراڑ میں گُھس گئی، مگرڈوری باہَر ہی لٹک رہی تھی، میں نے ڈوری پکڑ کرزور سے کھینچی تو چِڑیا پھڑکتی ہوئی باہَر نکل پڑی، مگربے چاری کی ٹانگ ڈوری سے کٹ چکی تھی، میری ماں نے یہ درد ناک منظر دیکھا تو صدمے سے تڑپ اُٹھی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددُعا نکل گئی : ’’جس طرح تو نے اِس بے زَبان کی ٹانگ کاٹ ڈالی، اللہ تَعَالٰی تیری ٹانگ کاٹے  ۔ ‘‘بات آئی ہو گئی، کچھ عرصے کے بعد تحصیلِ علم کیلئے میں نے ’’ بُخارا‘‘ کا سفر اختیار کیا، اِثنائے راہ سُواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی، ’’ بُخارا‘‘ پَہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی بالآخِر ٹانگ کٹوانی پڑی ۔ (اوریوں ماں کی بددعا رنگ لائی) (حیاۃُ الحیوان الکبرٰی ج۲ ص ۱۶۳  دارالکتب العلمیۃ بیروت)   

پاؤ ں پکڑ کر ماں باپ سے مُعافی مانگ لیجئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرآپ کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک ناراض ہے تو فوراً سے پیشتر ہاتھ جوڑ کر، پاؤں پکڑ کر اور رو رو کر مُعافی تَلافی کی ترکیب فرمالیجئے ، اُن کے جائز مطالَبات پورے کر دیجئے کہ اِسی میں دونوں جہانوں کی بھلائی ہے ۔  والِدَ ین کے حُقُوق کی مزید معلومات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ  کی جاری کردہ دو عدد V.C.Ds. (1) ’’ماں باپ کے حُقُوق‘‘ اور (2)اعتِکافِ رَمَضانُ الْمبارَک (۱۴۳۰ھ) میں ہونے والے ’’ مَدَنی مذاکرے ‘‘ کی وی ۔  سی ۔  ڈی بنام ’ ’ والِدَین کے نافرمانوں کا انجام‘‘مُلاحَظہ کیجئے ۔

دل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا                     ورنہ ہے اِس میں خَسارہ آپ کا

کینۂ  مسلم سے سینہ پاک کر                         اِتِّباعِ صاحِبِ لَولاک کر

 

یاخدا ہے التِجا عطاّرؔ کی

سنَّتیں اپنائیں سب سرکار کی

 



Total Pages: 12

Go To