Book Name:Khazanay Kay Ambaar

میری جان ہے ! میں توجب آنکھ کھولتا ہوں یہ گُمان ہوتا ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے موت آجائیگی اور جب پِیالہ منہ تک لے جاتا ہوں کبھی یہ گمان نہیں کرتا کہ اس کے رکھنے تک زندہ رہوں گا اور جب کوئی لقمہ لیتا ہوں گمان ہوتاہے کہ اسے حَلق سے اُتارنے نہ پاؤں گا کہ موت اُسے گلے میں روک دے گی،  قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضَرور آنے والی ہے تم تھکا  نہ سکو گے۔   (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۴ ص۱۰۸ حدیث۵۱۲۷ دارالفکربیروت

            یہ سب  ( تو)   مُنْفَرِدکا بیان   (ہے )  رہا عِیا ل دار  (تو)  ظاہِر ہے کہ وُہ اپنے نَفس کے حق میں ‘’ مُنْفَرِد’‘ ہے،  تو خوداپنی ذات کے لیے اُسے اُنہِیں اَحکام کا لحاظ چاہئے اورعِیال کی نظر سے اُس کی صورَتیں اور ہیں ان کابیان کریں ۔

 {12}عِیال کی کَفالَت شَرع نے اِس پرفَرض کی،  وہ ان کو تَوَکُّل و تَبَتُّل  (دنیا سے کَنارہ کشی )   وَ صَبْرْعَلَی الْفاقَہ   (یعنی اوربھوک پیاس سے صَبر)   پر مجبور نہیں کرسکتا،  اپنی جان کو جتنا چاہے کُسے   (یعنی آزمائش میں ڈالے )   مگر اُن  (یعنی بال بچّوں )   کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔  

 {13}وہ جس کی عِیال میں صورت چہارُم کی طرح بے صبرا ہو اور بے شک بَہُت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کے لحاظ سے تو اس پر دوہرا وُجُوب ہوگا کہ قَدَرِ حاجت جَمع رکھے ۔

 {14} ہاں جس کی سب عِیال  (یعنی بال بچّے)   صابِر ومُتَوَ کِّل ہوں اُسے رَوا   (جائز )  ہوگا کہ سب   (مال)  راہِ خدا میں خَرچ کردے۔      (فتاوٰی رضویہ ج۱۰ ص۳۱۱تا۳۲۷ مختصرا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔  تاجدارِ رسالت ،   شَہَنْشاہِ نُبُوَّت،  مصطَفٰے جانِ رَحمت، شَمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے:  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔     (اِبنِ عَساکِر ج۹ ص۳۴۳) 

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

   ’’ انگوٹھی کے اَہم اَحکام‘‘   کے ستَّرہ حُرُوف کی نسبت

 سے انگوٹھی کے 17 مَدَنی پھول

٭مرد کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔  سلطانِ دو جہان،  رَحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے مَنع فرمایا ۔            (بُخاری ج ۴ ص۶۷حدیث۵۸۶۳) 

٭  (نابالِغ)  لڑکے کو سونے کا زَیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا وہ گنہگار ہوگا۔    (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۵۹۸  ٭لوہے کی انگوٹھی جَہنَّمیوں کا زیور ہے۔   (ترمذی ج۳ص۳۰۵ حدیث۱۷۹۲)    ٭مرد کیلئے وُہی انگوٹھی جائز ہے جومَردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینے کی ہو اور اگر اس میں   (ایک سے زیادہ یا)   کئی نگینے ہوں تو اگرچِہ وہ چاندی ہی کی ہو،  مرد کے لیے ناجا ئز ہے۔   (رَدُّالْمُحتار ج۹ص۵۹۷ ٭ اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ  (جائز والی)   انگوٹھی پہننا یا  (ایک یا زیادہ)   چھلّے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ        ( چھلّا)   انگوٹھی نہیں ۔  عورَتیں چَھلّے پہن سکتی ہیں ۔   (بہار شریعت حصّہ ۱۶ص۷۱)    ٭چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشے  (یعنی چار گرام 374 ملی گرام)   سے کم ہو، پہننا جائز ہے اگر چِہ بے حاجتِ مُہر،   (مگر)   اس کا تَرک  ( یعنی جس کو اِسٹامپ کی ضَرورت نہ ہو اُس کا نہ پہننا)   افضل ہے اور مُہر کی غَرَض سے خالی جواز نہیں   (یعنی جن کو انگوٹھی سے اِسٹامپ لگانی ہواُن کے لئے صِرف جائز ہی نہیں )  بلکہ سنّت ہے ، ہاں تکبُّر یا زنانہ پن کا سنِگار  (یعنی لیڈیز اسٹائل کی ٹِیپ ٹاپ)   یا اور کوئی غَرَضِ مذموم  (یعنی قابلِ مذمّت مطلب ومَفاد)   نیّت میں ہو تو ایک انگوٹھی  (ہی)  کیااِس نیّت سے   (تو)  اچّھے کپڑے پہننے بھی جائز نہیں۔   (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۱۴۱)   ٭ عیدَین میں مرد کے لئے چاندی کی جائز والی انگوٹھی پہننا مُستحب ہے۔   (بہارِ شریعت  ج ۱ص ۷۷۹ ، ۷۸۰ بتصرف مکتبۃ المدینہ باب ا لمدینہ کراچی٭انگوٹھی اُنھیں کے لیے سنّت ہے جن کو مُہر کرنے  (یعنی اِسٹامپ STAMP   لگانے)   کی حاجت ہوتی ہے،  جیسے سلطان و قاضی اور عُلَما جو فتوے پر  (انگوٹھی سے)  مُہرکرتے    (یعنی اِسٹامپ لگاتے)  ہیں ،  ان کے علاوہ دوسروں کے لیے جِن کو مُہر کرنے کی حاجت نہ ہو سنّت نہیں البتّہ پہننا جائز ہے۔    (فتاوٰی عالمگیریج۵ ص۳۳۵)    فِی زمانہ انگوٹھی سے مُہر کرنے کا عُرف نہیں رہا، بلکہ اس کام کے لئے’’ اِسٹام‘‘  بنوائی جاتی ہے۔  لہٰذا جن کو مُہر نہ لگانی ہواُن قاضی وغیرہ کے لئے بھی انگوٹھی پہننا



Total Pages: 13

Go To