Book Name:Ashkon Ki Barsat

تھے کہ روزانہ اپنے اُستاذ سے ڈانٹ کھاتے تھے ٭  میں حیران ہوں کہ فُلاں طالِبِ علم کی پوزیشن کیسے آگئی !  ضَرور اُستاذ صاحِب نے اس کو پرچے کے سُوالات بتائے ہوں گی٭   فُلاں اُستاذ   (یاقاری صاحِب)  کا ذِہن مَدَنی نہیں ہے ،  اُنہوں نے کبھی دَرَجے میں مَدَنی کاموں کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا ٭  فُلاں فُلاں اُستاذ کی آپس میں بنتی نہیں جب دیکھو ایک دوسرے کے خِلاف باتیں کرتے رہتے ہیں ٭  ہمارے اُستاذ  (یا قاری صاحِب)  آج کل فُلاں اَمرَد میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں ۔    

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دیوار کی کیچڑ

          حضرتِ سیِّدُناامام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الھادیفرماتے ہیں :  امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے ایک مَقروض مَجوسی   (یعنی آتَش پرست)  کے یہاں قَرضہ وُصُول کرنے کیلئے تشریف لے گئے۔    اِتِّفاق سے اُس کے مکان کے قریب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نعلِ پاک   (یعنی جُوتی مبارَک)  میں کیچڑ لگ گئی،   کیچڑ چُھڑانے کیلئے نعلِ پاک کو جھاڑا تو کچھ کیچڑ اُڑ کر مَجوسی کی دیوار سے لگ گئی،   پریشان ہوگئے کہ اب کیا کروں !  کیچڑ صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مِٹّی بھی اُکھڑے گی اور صاف نہیں کرتا تو دیوار خراب ہورہی ہے۔    اِسی شَش وپَنج میں دروازے پر دستک دی،    مَجُوسی نے باہَر نکل کر جب امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو دیکھا تو اُس نے قَرض کی ادائیگی کے سلسلے میں ٹالَم ٹَول شروع کردی۔    امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے قَرض کامُطالَبہ کرنے کے بجائے دیوار پر کیچڑ لگ جانے کی بات بتا کر نہایت ہی لَجاجت   (یعنی عاجزی) کے ساتھ مُعافی مانگتے ہوئے ارشاد فرمایا:  مجھے یہ بتائیے کہ آپ کی دیوار کس طرح صاف کروں ؟  امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی حُقُوقُ الْعِباد کے مُعاملے میں بے قراری اور خوفِ خداوندی عزوجل دیکھ کر  مَجُوسیبے حدمُتَأَثِّر   (مُ۔   تَ ۔    اَث۔    ثِر )  ہُوا اور کچھ اس طرح بولا:  اے مسلمانوں کے امام!  دیوار کی کیچڑ تو بعد میں بھی صاف ہوتی رہے گی،   پہلے میرے دل کی کیچڑ صاف کرکے مجھے مسلمان بنا دیجئے۔    چُنانچِہ وہ مَجُوسی امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا تقویٰ دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوگیا۔     (تفسیر کبیر ج۱ص۲۰۴ داراحیاء التراث العربی بیروت)

گُنہ کی دلدل میں پھنس گیا ہوں ،   گلے گلے تک میں دھنس گیا ہوں

نکالئے بہرِ نُوح و آدم ،    امامِ اعظم ابو حنیفہ  (وسائلِ بخشش ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  پوسٹر لگانے کا مسئلہ

     امامِ اعظم ابو حنیفہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کیمَحَبَّت کا دم بھرنے والے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے ،  ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بندوں کے حُقُوق کے مُعامَلے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کس قَدَر ڈرتے تھے!  اِس حِکایت سے اُن لوگوں کو دَرس حاصِل کرنا چاہئے جو لوگوں کی دیواروں اور سیڑھیوں کے کونوں وغیرہ کو پِیک  (یعنی پان کے رنگین تھوک)  کی پچکاریوں سے بد نُما کردیتے ہیں ،    اِسی طرح بِغیر اجازتِ مالِک مکانوں اور دُکانوں کی دیواروں اور دروازوں نیز سائن بورڈز اور گاڑیوں ،   بسوں وغیرہ کے باہَر یا اندراِسٹیکرز اور پوسٹر لگانے والے،  دیواروں پر مالِک کی اجازت کے بِغیر ’’ چاکنگ‘‘ کرنے والے بھی دَرس حاصل کریں کہ اس طرح کرنے سے لوگوں کے حُقُوق پامال ہوتے ہیں ۔    بے شک حُقُوقُ اللہ ہی  عظیم تر ہیں مگرتوبہ کے تعلُّق سے حُقُوقُ الْعِباد کا مُعامَلہحُقُوقُ اللہ سے سخت تر ہے،    دنیا میں جس کسی کا حق ضائِع کیا ہواگر اُس سے مُعافی تَلافی کی ترکیب دنیا ہی میں نہ بنی ہو گی تو قِیامت کے روز اُس صاحِبِ حق کو نیکیاں دینی پڑیں گی اور اگر اس طرح بھی حق ادا نہ ہوا تو اُس کے گناہ اپنے سر لینے ہوں گے۔    مَثَلاًجس نے بِلاعُذرِ شَرعی کسی کو جھاڑا ہوگا،   گُھور کر یا کسی بھی طرح ڈرایا ہوگا،   دل دُکھایا ہوگا ،   کسی کو مارا ہوگا،   کسی کے پیسے دبا لئے ہوں گے،  پِیک ،  پوسٹر یا چاکنگ وغیرہ کے ذَرِیعے کسی کی دیوار خراب کی ہوگی،  کسی کی دکان یا مکان کے آگے جگہ گھیر کر اُس کیلئے ناحق پریشانی کا سامان کیا ہوگا،   کسی کی عمارت سے قریب غیر واجِبی طور پر زبردستی



Total Pages: 14

Go To