Book Name:Ashkon Ki Barsat

اسلامی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں تبلیغِ قرآن و سُنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے   ’’مَدَنی ماحول‘‘   کے تَحت ہونے والے مَدَنی تربیتی کورس کے لیے  ’’اِنفرادی کوشِش‘‘   کرنے کے لیے ایک عَلاقے میں گیا۔    ایک اسلامی بھائی کوجُونہی میں نے مَدَنی تربیتی کورس کی دعوت پیش کی تو وہ بول اُٹھا:  میرے چِہرے پر پیارے آقا،  مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیمَحَبَّت کی نشانی یعنی داڑھی شریف جوآپ دیکھ رہے ہیں ،   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ دعوتِ اسلامی کے ’’مَدَنی چینل‘‘ کا فیضان ہے، مَدَنی چینل پر ایک رِقّت انگیز سنّتوں بھرا بیان سن کر نَماز کا پابند بنا،  داڑھی سجائی اور میں نے قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحسانِہٖ۔    

مَدَنی چَینل سنّتوں کی لائیگا گھر گھر بہار

مَدَنی چَینل سے ہمیں کیوں والِہانہ ہو نہ پیار  (وسائلِ بخشش ص ۳۳۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَدَنی چینل کے ذَرِیعے ضَروری عُلوم حاصِل کیجئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  سبحٰنَ اللہ!  دعوتِ اسلامی کے ’’مَدَنی چینل‘‘ نے دنیاکے کئی مَمالِک میں سنّتوں کی دھوم مچا رکھی ہے،   مَدَنی چینل کے ذَرِیعے نیکیاں بڑھانے اور جنّت دلانے،  گناہ مٹانے اور جہنَّم سے بچانے والے ضَروری عُلُوم سیکھنے کو ملتے ہیں ۔    ضَروری عُلُوم کے حُصُول کی ترغیب دیتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراھیم    زَر نُوجی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی   فرماتے ہیں :  اَفْضَلُ الْعِلمِ عِلْمُ الْحَالِ وَ اَفْضَلُ الْعَمَلِ حِفْظُ الْحَالِ یعنی ’’ افضل ترین علم وہ ہوتا ہے کہ جو اُمُور اُس وقت درپیش ہوں اُن سے آگاہی حاصل کی جائے اور افضل ترین عمل اپنے احوال   (یعنی کیفیات و حال وچال)  کی حفاظت کرناہے۔ ‘‘  پس ایک مسلمان پر ان عُلوم کا جاننا بَہُت ضروری ہے جن کی ضرورت اُس کو اپنی زندگی میں پڑتی ہے،   خواہ وہ کسی بھی شُعبے سے تعلُّق رکھتا ہو۔      (راہِ علم ص۱۷)  گھر بیٹھے سنّتیں اور روز مرّہ کی ضَرورت کا علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے آپ بھی مَدَنی چینل دیکھئے اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب فرمایئے۔    

مَدَنی چینل میں نبی کی سنّتوں کی دھوم ہے

اس لئے شیطاں لعیں رنجور ہے مغموم ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔     تاجدارِ رسالت ،   شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،   مصطَفٰے جانِ رَحمت،   شَمعِ بزمِ ہدایت ،  نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے:  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔     (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵)

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ’’شانِ امام اعظم ابوحنیفہ ‘‘   کے اُنیس حُرُوف کی نسبت سے تیل ڈالنے اور کنگھی کر نے کے19مَدَنی پھول

 {1} حضرت سیِّدُنا  ا َنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ،    دانائے غُیُوب،   مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سرِ اقدس میں اکثر تیللگاتے اور داڑھی مبارَک میں کنگھی کرتے تھے اور اکثر سرِ مبارک پر کپڑا رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ کپڑا تیل سے تر رہتا تھا   (اَ لشَّمائِلُ ا لْمُحَمَّدِیَّۃ لِلتِّرمِذی ص۴۰) معلوم ہوا ’’سر بند ‘‘  کا استعمال سنّت ہے ،  اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ جب بھی سر میں تیل ڈالیں ،  ایک چھوٹا سا کپڑاسر پر باندھ لیا کریں ،  اِس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّٹوپی اور عِمامہ شریف تیل کی آلُودَگی سے کافی حد تک محفوظ رہیں گے۔    ا َلْحَمْدُ للہ عَزَّ وَجَلَّ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کا



Total Pages: 14

Go To