Book Name:Ashkon Ki Barsat

اپنے اوپرظُلْم کرنے والوں پر غصّے سے بے قابو ہوکر لڑائی بھڑائی پر اُتر آنے کے بجائے اُن کو مُعاف کرکے ثواب کا خزانہ لوٹنا سیکھ لیں ۔   دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  505 صَفَحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صَفْحَہ479  اور481 پر دیئے ہوئے دو فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھئے اور جھومئے:   {1}  جسے یہ پسند ہوکہ اُسکے لیے  (جنَّت میں ) مَحَل بنایا جائے اوراُسکے دَرَجات بُلند کیے جائیں ،   اُسے چاہیے کہ جو اُس پرظلم کرے یہ اُسے مُعاف کرے اورجو اُسے مَحروم کرے یہ اُسے عطا کرے اورجو اُس سے قَطع تعلُّق کرے   (یعنی تعلقات توڑے)  یہ اُس سے ناطہ  (یعنی رشتہ)  جوڑے۔     (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۳ ص۱۲ حدیث ۳۲۱۵ دارالمعرفۃ بیروت)   {2}  قِیامت کے روز اِعلان کیا جائے گا:  جس کا اَجراللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِمّۂ کرم پر ہے،   وہ اُٹھے اورجنَّت میں داخِل ہو جائے۔    پوچھا جائے گا:  کس کے لیے اَجر ہے؟ وہ مُنادی   (یعنی اِعلان کرنے والا) کہے گا :   ’’اُن لوگوں کے لیے جو مُعاف کرنے والے ہیں ۔   ‘‘ تو ہزاروں آدَمی کھڑے ہوں گے اور بِلا حساب جنَّت میں داخِل ہوجائیں گے۔     (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۱ص۵۴۲حدیث۱۹۹۸)

اِس عُنوان پر مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ’’ عَفو ودرگُزر کے فضائل‘‘ پڑھنے سے تعلُّق رکھتا ہے،   یہ رِسالہ فیضانِ سنَّت جلد 2کے باب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صفحہ478تا493پر بھی موجود ہے۔    دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww.dawateislami.netپر بھی پڑھ اور ’’ پرنٹ آؤٹ ‘‘ کر سکتے ہیں ۔  

اہلِ زمانہ میں سب سے زائد عَقْلْمَند

          ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس علمِ دین کازبردست ذخیرہ تھا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ بَہُت زیادہ عَقْلمند تھے۔    ’’ اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان‘‘ میں ہے،   حضرتِ سیِّدُنا امامِ شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زائد عقلمند کسی عورت نے نہیں جنا۔   ‘‘ سیِّدُنا بکر بن جَیش رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :  ’’اگرامامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اہلِ زمانہ کی عَقلوں کو جمع کیا جائے،  تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عقل سب پر غالِب آجائے۔   ‘‘    (اَ لْخَیْراتُ ا لْحِسان ص۶۲) آپ کی عقلِ سلیم اور بے مثال اندازِ تَفہیم   (تَف۔   ھِیم یعنی سمجھانے کے بے نظیر طریقے) کی ایک ایمان افروز حکایت سنئے اور جھومئے:  

عثمانِ غنی   کے گستاخ پر انفِرادی کوشِش

          کُوفہ میں ایک شخص امیرُالْمُؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی ذُوالنُّورَین جامِعُ القراٰنرضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان شرافت نشان میں بکواس کرتا اور معاذَ اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہودی کہتا تھا۔    ایک بار سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اُس کے پاس تشریف لے گئے اوراس پر انفِرادی کوشِش  کے ذریعے حکمت بھرے مَدَنی پھول لٹاتے ہوئے فرمایا:  میں آپ کی بیٹی کیلئے رِشتہ لایا ہوں ،  لڑکا ایسا ہے کہ بس اُس پر ہر وَقت خوفِ خدا عزوجل کا غَلَبہ رہتا ہے۔    نہایت مُتَّقیاور پرہیزگار ہے اورساری ساری رات عبادت میں گزار دیتا ہے۔    لڑکے کے یہ اَوصاف   (یعنی خوبیاں )  سن کر وہ شخص بولا:  بَہُت خوب!  ایسا داماد تو ہمارے سارے خاندان کیلئے باعثِ سعادت ہو گا!  امامِ اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:  مگر اُس میں ایک عیب ہے اور وہ یہ کہ وہ مذہباً یہودی ہے۔    یہ سنتے ہی وہ شخص سیخ پا ہوگیا اورگَرج کر بولا:  کیا میں اپنی بیٹی کی شادی یہودی سے کروں ؟ سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے نہایت ہی نرمی سے ارشاد فرمایا:  ’’بھائی!  آپ خود تو اپنی بیٹی یہودی کے نِکاح میں دینے کیلئے تیّار نہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّکے مَحبوب ،   دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یکے بعد دیگرے اپنی دو شہزادیاں کسی یہودی کے نکاح میں دے دیں ! ‘‘ یہ سُن کر اُس کی عَقل ٹھکانے لگ گئی اور وہ بے حد نادِم ہوا اور سیِّدُنا عثمانِ غنی ذُوالنُّورَین جامع القراٰن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مُخالَفَت سے  توبہ کی ۔     (اَ لْمَناقِب لِلْکَرْدَرِی ج۱ ص۱۶۱ کوئٹہ)

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا

ہو مبارَک تم کو ذُوالنُّورین جوڑا نور کا  (حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جان دیدی مگر حکومتی عُہدہ قبول نہ کیا

 



Total Pages: 14

Go To