Book Name:Kamyab Talib e Ilm kaun?

مَاوَصَلَ مِنْ وَصْلٍ اِلاَّ بِالْحُرْمَۃِ       وَمَاسَقَطَ مِنْ سَقْطٍ اِلَّا بِتَرْکِ الْحُرْمَۃِ

یعنی جس نے جو کچھ پایا اَدب واحترام کرنے کی وجہ سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ اَدب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔

        حضرت سہل بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کوئی سوال کیا جاتا، تو آپ پہلو تہی فرمالیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ اچانک دیوار سے پشت لگا کر بیٹھ گئے اور لوگوں سے فرمایا، ’’آج جو کچھ پوچھنا چاہو، مجھ سے پوچھ لو۔‘‘لوگوں نے عرض کی، ’’حضور!آج یہ کیا ماجرا ہے؟آپ تو کسی سوال کا جواب ہی نہیں دیا کرتے تھے؟‘‘ فرمایا، ’’جب تک میرے اُستاد حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحیات تھے، ان کے ادب کی وجہ سے جواب دینے سے گریز کیاکرتا تھا۔‘‘   

       لوگوں کو اس جواب سے مزید حیرت ہوئی کیونکہ ان کے علم کے مطابق حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِابھی حیات تھے۔بہرحال آپ کے اس جواب کی بناء پر فوراً وقت اور تاریخ نوٹ کرلی گئی۔جب بعد میں معلومات کی گئیں ، تو واضح ہوا کہ آپ کے کلام سے تھوڑی دیر قبل ہی حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کاانتقال ہوگیا تھا۔(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱، ص ۲۲۹)

        امام شعبی نے روایت کیا کہ حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک جنازے پر نماز پڑھی۔پھر سواری کا خچر لایا گیا، تو حضرت عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم انے آگے بڑھ کر رکاب تھام لی۔یہ دیکھ کر حضرت زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا، ’’اے رسول  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَکے چچا کے بیٹے!آپ ہٹ جائیں ۔‘‘ اس پر حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم انے فرمایا، ’’علماء واکابرکی اسی طرح عزت کرنی چاہیئے۔‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ، صفحہ ۱۱۶)

  استاذ کواپنا روحانی باپ سمجھے :

                استاذ روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے لہذا طالبُ العلم کو چاہئیے کہ اسے اپنے حق میں حقیقی باپ سے بڑھ کر مخلص جانے ۔تفسیر کبیر میں ہے :  استاذ اپنے شاگرد کے حق میں ماں باپ سے بڑھ کر شفیق ہوتا ہے کیونکہ والدین اسے دنیا کی آگ اور مصائب سے بچاتے ہیں جبکہ اساتذہ اسے نارِ دوزخ اور مصائب ِ آخرت سے بچاتے ہیں ۔‘‘(تفسیر کبیر ، ج۱، ص ۴۰۱)

 بیمار ہونے پر عیادت :  

                اگر کوئی استاذ بیمار ہوجائے تو سنت کے مطابق اس کی عیادت کرے اور بیمار کی عیادت کرنے کا ثواب لوٹے جیسا کہ  حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  روایت ہے کہ سرورِکونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔‘‘(جامع الترمذی، الحدیث ۹۷۱ ، ج۲، ص۲۹۰ )

 استاذ کی غم خواری :

        اگر کسی استاذ کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آجائے مثلاً اس کے حقیقی والد یا کسی عزیزکی وفات ہوجائے یا اس کا کوئی نقصان ہوگیا ہوتو اس کی غم خواری کرے اور حدیث ِ پاک میں بیان کردہ ثواب حاصل کرے جیسا کہ حضرتِ جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت (یعنی اس کی غم خواری)کر ے گا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے تقوی کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘(المعجم الاوسط للطبرانی ، الحدیث ۹۲۹۲ج۶، ص ۴۲۹)

اہم معاملات میں استاذ سے راہنمائی لینا :

        طالبُ العلم کو چاہیے کہ کوئی بھی اہم فیصلہ کرتے وقت اپنے استاذ سے ضرور مشورہ کر لے ۔

         امام محمد بن اِسماعیل بخاری  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اور فقہ میں کتاب الصلوۃ سیکھنے لگے ۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب ان کی طبیعت میں فقہ میں عدم دلچسپی اور علم حدیث کی طرف رغبت دیکھی تو ان سے ارشاد فرمایا تم جاؤ اور علم حدیث حاصل کرو کیونکہ آپ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ان کی طبیعت علم حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے پس جب اما م بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے استاذکا مشورہ قبول کیا اور علم حدیث حاصل کرنا شروع کیا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تمام ائمہ حدیث سے سبقت لے گئے ۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ، ص ۵۵)

سچ بولے :

        طالبُ العلم کو چاہئے کہ استاذ کے سامنے بالخصوص اور دیگر مسلمانوں کے سامنے بالعموم سچ ہی بولے ۔ استاذ سے جھوٹ بولنا باعث ِ محرومی ہے جیسا کہ اپنے استاذ کو اپنی طرف سے عبارتیں گھڑ کردھوکا دینے والے طالب علم کے بارے میں دریافت کئے گئے سوال کے جواب میں امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :

         سخن پروری یعنی دانستہ باطل پر اصرار ومکابرہ ایک کبیرہ، کلمات علماء میں  کچھ الفاظ اپنی طرف سے الحاق کر کے ان پر افترا دوسرا کبیرہ، علماء کرام اور خود اپنے اساتذہ کو دھوکہ دینا خصوصاً امر دین میں تیسرا کبیرہ، یہ سب خصلتیں یہود لَعَنَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کی ہیں ۔قَا لَ اللّٰہُ تَعَالٰی :

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)

ترجمہ کنزالایمان : اورحق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ۔(پ : ۱

Total Pages: 22

Go To