Book Name:Wasail e Bakhshish

رُخ سُوئے کعبہ ہاتھ میں   زم زم کا جام ہو

پی کر مَیں   پھر کروں   دُعا یا ربِّ مصطَفٰے

پھر قافلہ الٰہی بنے ’’ چل مدینہ‘‘ کا

احمد رضا کا واسِطہ یاربِّ مصطَفٰے

سب اہلِ خانہ ساتھ میں  ہوں  کاش!چل پڑے

سُوئے مدینہ قافِلہ یا ربِّ مصطَفٰے

                                      ہوں   ساتھ میں   نواسیاں   اور ان کے والِدین

چلدے مدینے قافِلہ یا ربِّ مصطَفٰے

ہوں   ساتھ پوتے پوتیاں   اور ان کے والِدین

چلدے مدینے قافِلہ یا ربِّ مصطَفٰے

دِیوانے مصطَفٰے کے مِرے ساتھ ساتھ ہوں 

چلدے مدینے قافِلہ یا ربِّ مصطَفٰے

روتی رہے جو ہر گھڑی عشقِ رسول میں 

وہ آنکھ دیدے یا خدا یا ربِّ مصطَفٰے

اے کاش!مجھ کو خواب میں   ہو جائے ایک بار

دیدارِ شاہِ انبیا یاربِّ مصطَفٰے

ہوں  خَتْم میرے مُلک سے تخریب کاریاں 

اَمْن و اَمان ہو عطا یا ربِّ مصطَفٰے

دنیا کے جھگڑے خَتْم ہوں   اور مشکِلیں   ٹلیں 

صدقہ حسن حسین کا یا ربِّ مصطَفٰے

 

گو جاں   کو خطرہ ہے مِری اِمداد پر ہے تُو

پھر دشمنوں   کا خوف کیا یا ربِّ مصطَفٰے

ا

 



Total Pages: 406

Go To