Book Name:Wasail e Bakhshish

یاالٰہی! ازپئے شاہِ اُمَم

حشر میں   عطارؔ کا رکھنا بھرم

 

ہنسانے کیلئے  جھوٹ بولنا

    فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:ہلاکت ہے اُس شخص کے لئے جو بات کرتا ہے تو جھوٹ بو لتا ہے تا کہ اس کے ذَرِیْعے لوگوں   کو ہنسائے، اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے ۔  ( ابو داوٗدج۴ ص۳۸۷حدیث ۴۹۹۰ )

غصّہ پینے والے کیلئے حور

    فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:جو شخص غصّہ نکالنے پر قدرت کے باوُجود اسے پی جاتاہےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّقِیامت کے دن اسے لوگوں   کے سامنے بلاکر اختیار دے گا کہ جس حُور کو چاہے لے لے۔

 ( ابو داوٗد ص۳۲۵حدیث ۴۷۷۷ ، اِحیاء العلوم ج۳ ص ۵۳۴مُلَخّصاً )

جہنَّم کا مخصوص دروازہ

   فرمان مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:بے شک جَہَنَّم میں   ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی شخص داخل ہوگا جس کا غصّہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔(شُعَبُ الْاِیمان  ج۶ص ۳۲۰  حدیث ۸۳۳۱، ایضاًاِحیاء العلوم )

جبڑے چیرنے کا عذاب

    فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:میں   نے خواب دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا:چلئے!میں   اُس  کے ساتھ چل دیا، میں   نے دو آدمیوں   کو دیکھا، ان میں   سے ایک کھڑا تھا اور دوسرا بیٹھا تھا ، کھڑے ہو ئے شخص کے ہاتھ میں   لوہے کازَنبور([1])تھا جسے وہ بیٹھے شخص کے ایک جبڑے میں   ڈال کر اُسے اتنا کھینچتا کہ گدی تک پہنچا دیتا پھر اُسے نکالتااور دوسرے جَبڑے میں   ڈال کرکھینچتا، اتنے میں   پہلے والا(جبڑا)اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا ، میں   نے لانے والے شخص سے پو چھا:یہ کیا ہے؟اُس نے کہا:یہ جھوٹا شخص ہے اسے قِیامت تک قبر میں   یہی عذاب  دیا جا تا رہے گا۔(اِحیاء العلوم ج۳ ص ۴۰۹مُلَخّصاً، مکتبۃُ المدینہ، مساوی الاخلاق للخرائطی ص ۷۶حدیث ۱۳۱)

 

فُضُول بولنے والے کی قِیامت میں   پانچ جگہ پریشانی

     منقول ہے کہ ہر ہنسی مزاح(یعنی مذاق) یا لغو بات(یعنی فضول بات) پر بندے کو(میدانِ قیامت میں  ) پانچ مقامات پر جھڑکنے اور وضاحت طلب کرنے کی خاطر روکا جائے گا:

{۱} تُو نے بات کیوں   کی تھی؟ کیا اس میں   تیرا کوئی فائدہ تھا؟

 



[1]     یعنی لوہے کی سلاخ جس کا ایک طرف کا سرا مڑا ہوا ہوتا ہے ۔



Total Pages: 406

Go To