Book Name:Wasail e Bakhshish

جو گناہوں   کے مَرَض سے تنگ ہے بیزار ہے

قافِلہ عطارؔ اُس کے واسِطے تیاّر ہے

 

آہ ! مَدنی قا فِلہ اب جا رہا ہے لوٹ کر

(یہ نظم دعوتِ اسلامی کے سنّتوں   کی تر بیت کے مدنی قا فلے کی سفرسے واپسی کا وقت قریب آنے پر سنّتوں   کی تڑ پ رکھنے والے حُسّاس عاشقانِ رسول کے ولولہ انگیز جذبات کی عکا ّس ہے)

آہ! مَدنی قافِلہ اب جا رہا ہے لَوٹ کر

کوئی دل تھامے کھڑا ہے کوئی ہے باچشمِ تر

سنّتوں   کی تربیَت کے قافِلوں   کے قَدْر داں   

جب پلٹتے ہیں   گھروں   کو روتے ہیں   وہ پھوٹ کر

کس قَدَر خوش تھے نکل کر چلد ئے تھے گھر سے جب

اب اُداسی چھا رہی ہے ہائے !اپنے قلب پر

فِکْر تھی گھر کی نہ کوئی فکر کاروبار کی

لطف خو ب آتا تھا ہم کو مسجِدوں   میں   بیٹھ کر

جا تے ہی دنیا کے جھگڑے پھر گلے پڑ جائیں   گے

کیا کریں   ناچار ہیں   قابو نہیں   حالات پر

 

باجماعت سب نَمازیں   اور تہجُّد کے مزے

اتنی آسانی سے پھر مل جا ئیں   گے کیا جا کے گھر ؟

یاخدا! نکلوں   میں   مدنی قافلوں   کیساتھ کاش!

سنّتوں   کی تربیّت کے واسطے پھر جلد تر!!

ہائے! سارا وقت میرا غفلتوں   میں   کٹ گیا

آہ! کب ہو گا مُیَسَّر پھر مبارک یہ سفر

مَدنی ماحول اور مَدنی قافِلے والوں   کی کچھ

بھی نہ کی ہے قدَرْ ہا ئے! ہوں   میں   ناداں   کس قَدَر

مسجدوں   کا کچھ ادب ہا ئے! نہ مجھ سے ہو سکا

 



Total Pages: 406

Go To