Book Name:Wasail e Bakhshish

یہ توسب اولیا کا افسرہے، ابنِ زَہرا ہے ابنِ حیدر ہے

اور حَسنَین کا دُلارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

غوثِ اعظم ہیں   شاہِ جِیلانی، پیرِلاثانی، قُطبِ رَبّانی

اُن کے عُشّاق نے پکارا ہے ، و اہ کیا بات غوثِ اعظم کی

شَہرِ بغداد مجھ کو ہے پیارا، خوب دلکش وہاں  کانَظّارہ

میرامرشِدجو جلوہ آرا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

مل گیا مجھ کو غوث کادامن، فضلِ ربِّ کریم سے روشن

میری تقدیر کا ستارہ ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

جب کہ دنیا میں  مُرشِدی آئے، بَطْنِ مادرسے ہی ولی آئے

جان و دل ان پہ سب نثارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

 

میرے مرشدنے’’ لاتخف([1])‘‘کہہ کر، دُور سب کردیا ہے خوف اور ڈر

ان کا محشر میں   بھی سہارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

غوث رنج و الم  مٹاتے ہیں  ، اُس کوسینے سے بھی لگاتے ہیں 

آ گیا جو بھی غم کا مارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

غوث پیروں   کے پیر ہیں   بیشک، اورروشن ضمیرہیں  بے شک

حالِ دل اُن پہ آشکارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

کیوں   نہ جاؤں   میں   غوث پرواری، آفتیں   دورہوگئیں  ساری

جب تڑپ کر انہیں   پکارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

اُس کو من کی مُراد ملتی ہے، اُس کی بگڑی ضَروربنتی ہے

جس نے دامن یہاں   پَسارا ہے، واہ کیا بات غوثِ اعظم کی

 



[1]     یعنی’’ خوف نہ کر ‘‘یہ قصیدۂ غوثیہ‘‘ کے اس شعر کی طرف اشارہ ہے: مُرِیْدِیْ ’’لَاتَخَفْ‘‘ اَللّٰہُ رَبِّیْْ ترجمہ:اے میرے مرید! خوف نہ کر، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میرا پروردگار ہے۔



Total Pages: 406

Go To