Book Name:Wasail e Bakhshish

نُور پھولوں   میں   ہے نُور کلیوں   میں   ہے، نُور بازار میں   نُور گلیوں   میں   ہے

دَشت و کہُسار پر نُور ہی نُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

ہر طرف رحمتوں   کی ہے چھائی گھٹا، مَہکی مَہکی ہے کیا خُوب مَدنی فَضا

ذرّے ذرّے پہ قرباں   یہاں   طُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

کیا بیاں   دَشتِ طیبہ کی ہوں   خُوبیاں  ، پھُول تو پُھول کانٹے بھی دِلکش یہاں 

پتّے پتّے پہ چھایا ہوا نُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

کَیف ومستی میں   ڈوبے ہوئے رات دِن، بھینی خوشبُوسے مَہکے ہوئے رات دِن

جس کو دیکھو یہاں   آکے مَسرُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

باغِ طَیبہ میں   رہتی ہے ہَردم بَہار، آکے دیکھویہاں   کا سَماں   خُوشگوار

سب فَضا اِس کی خُوشبو سے بَھر پُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

غمزدہ جو بھی دربار میں   آگیا، شاہ کی وہ نگاہِ کرم پاگیا

سارا رنج و الم اس کا کافور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

 

دیکھو طیبہ کو کیسی فضیلت ملی، قبر انور اسی میں   بنائی گئی

گنبدِ سبز ہر آنکھ کا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

سَبْز گُنبد کے جلووں   پہ قُربان جاں  ، بلکہ قُربان ہے حُسنِ کَون و مکاں 

ہر مَنارے پہ چھایا ہوا نُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

خاکِ طیبہ میں   رکّھی ہے رب نے شِفا، ساری بیماریوں  کی ہے اس میں  دَوا

اِس کی بَرکت سے ہر اِک مَرَض دُور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

آس مُجھ کو تمہارے کرم کی شہا، بھیک دے دو مجھے اپنے غم کی شہا!

کہہ دو آقا! تِری عَرض منظور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

پھر کرم اس پہ سرکار کا ہوگیا، بخت بیدار عطّارؔ کا ہوگیا

روبرو روضۂ پاک کا نور ہے، میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے

 

 

 

مرتد کی تعریف

مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امرکا انکار کرے جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ یوہیں بعض افعال(کام) بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے مثلاً بت کو سجدہ کرنا۔ مصحف شریف (قرآنِ پاک)کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔ (بہارِ شریعت حصہ ۹ص۱۳)

 



Total Pages: 406

Go To