Book Name:Wasail e Bakhshish

ذرَّہ ذرَّہ جگمگایا ہر طرف آیا نکھار

گویا ساری ہی فضا کو نور میں   نَہلایا ہے

نور والے کے رُخِ روشن کی کیا تعریف ہو

چِہرۂ انور کے آگے چاند بھی شرمایا ہے

چھت پہ کعبے کی اُتَر کر حکمِ ربِّ پاک سے

 حضرتِ جِبریل نے جھنڈا وہاں   لہرایا ہے

چار سُو چھائی ہوئی تھیں   کُفر کی تاریکیاں 

تم نے آ کر نور سے سَنسار کو چمکایا ہے

جوں   ہی آمد ماہِ میلادِ مبارک کی ہوئی

اہلِ ایماں   جھوم اُٹھے شیطاں   کو غصّہ آیاہے

جب اندھیرے گھر میں   آئے نور سے گھر بھر گیا

گمشدہ سُوئی کو بی بی عائشہ نے پایا ہے

 

اے خدائے دو جہاں   اِحسان تیرا ہے بڑا

تو نے پیدا اُن کی اُمّت میں   ہمیں   فرمایا ہے

نور والے ہم گنہگاروں   کے گھر بھی روشنی

آ کے کر دو، نور تم نے ہر جگہ پھیلایا ہے

اپناجانا اور ہے اُن کا بُلانا ہے دِگر

خوش نصیبی اُن کی جن کو شاہ نے بُلوایا ہے

مجھ کو ڈھارس ہے غلامِ سیِّدِ اَبرار ہوں 

ماسِوا پلّے میں   میرے کچھ نہیں   سرمایہ ہے

نور والے! اب خدارا مسکراتے آیئے

روشنی ہو قبر میں   ہائے! اندھیرا چھایا ہے

 



Total Pages: 406

Go To