Book Name:Wasail e Bakhshish

کہوں   کِس سے آہ! جاکر سُنے کون میرے سرور

مِرے دَرد کا فَسانہ مَدنی مدینے والے

 

بَعَطائے ربِّ حاکم تُو ہے رِزق کا بھی قاسِم

ہے تِرا سب آب و دانہ مَدنی مدینے والے

میں   غریب بے سہارا کہاں   اور ہے گزارہ

مجھے آپ ہی نبھانا مَدنی مدینے والے

یہ کرم بڑا کرم ہے تِرے ہاتھ میں   بھرم ہے

سرِ حشر بخشوانا مَدنی مدینے والے

کبھی جَو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی

تِرا ایسا سادہ کھانا مَدنی مدینے والے

ہے چٹائی کا بِچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا

کبھی ہاتھ کا سِرہانا مَدنی مدینے والے

تِری سَادَگی پہ لاکھوں   تِری عاجِزی پہ لاکھوں 

ہوں   سلام عاجِزانہ مَدنی مدینے والے

مِرے شاہ! وقتِ رخصت مجھے میٹھا میٹھا شربت

تِری دید کا پِلانا مَدنی مدینے والے

مِلے نَزع میں   بھی راحت رہوں   قَبر میں   سلامت

تُو عَذاب سے بچانا مَدنی مدینے والے

 

گُھپ اندھیری قَبر میں   جب مجھے چھوڑ کر چلیں   سب

مِری قَبر جگمگانا مَدنی مدینے والے

پسِ مَرگ سَبز گنبد کی حُضُور ٹھنڈی ٹھنڈی

مجھے چھاؤں   میں   سُلانا مَدنی مدینے والے

اے شَفیعِ روزِ محشر! ہے گُنہ کا بوجھ سَر پر

میں   پھنسا مجھے بچانا مَدنی مدینے والے

مِرے وَالِدین محشر میں   گو بُھول جائیں   سَروَر

مجھے تم نہ بھول جانا مَدنی مدینے والے

شہا! تِشنگی بڑی ہے یہاں   دُھوپ بھی کڑی ہے

 



Total Pages: 406

Go To