Book Name:Wasail e Bakhshish

کیوں   پھریں   شوق میں   ہم مال کے مارے مارے

ہم تو سر کار کے ٹکڑوں   پہ پلا کرتے ہیں 

سنّتوں   کی وہ بنے رہتے ہیں   ہر دم تصویر

جام جو ان کی محبت کا پِیا کرتے ہیں 

سنّتوں   کے اے مبلّغ! ہو مبارَک تجھ کو

تجھ سے سرکار بڑا پیار کیا کرتے ہیں 

آپ کی گلیوں   کے کتّوں   پہ تصدُّق جاؤں 

کہ مدینے کے وہ کوچوں   میں   پِھرا کرتے ہیں 

سُن لو! نقصان ہی ہوتا ہے بالآخر ان کو

نفس کے واسِطے غصّہ جو کیا کرتے ہیں 

بِالیقیں   ایسے مسلمان ہیں   بے حد نادان

جو کہ رنگینیِ دنیا پہ مرا کرتے ہیں 

 

چاند سورج کا مقدَّر بھی تو دیکھو اکثر

گنبدِ خَضرا کے نظارے کیا کرتے ہیں 

جِھلِملاتے ہوئے تاروں   کی بھی قسمت ہے خوب

گنبدِ خَضراء کے نظّارے کیا کرتے ہیں 

مسجدِ نبوی کے پُر نور مَنارے ہر دم

گنبدِ خَضرا کے  نظّارے کیا کرتے ہیں 

جھوم کر آتے ہیں   بارِش لئے بادَل جب بھی

گنبد ِخَضرا کے  نظّارے کیا کرتے ہیں 

بامقدَّر ہیں   مدینے کے کبوتر بے شک

گنبدِ خَضرا کے نظارے کیا کرتے ہیں 

رشک عطارؔ کو ان ذَرَّوں   پر آتا ہے جو

ان کے نَعلَین کے تلووں   سے لگا کرتے ہیں 

 



Total Pages: 406

Go To