Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سرکارِ دو عالَم سے ملاقات کا عالَم                  عالَم میں  ہے مِعراجِ کمالات کا عالَم

یہ راضی خدا سے ہیں  خدا اِن سے ہے راضی                        کیا کہئے صحابہ کی کرامات کا عالَم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دریائے نیل کے نام خط

       دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 192 صفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ سَوانِحِ کربلا‘ ‘ صَفْحَہ56 تا57پرصدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی  تحریر فرماتے ہیں   :  جس کا خُلاصہ کچھ یوں  ہے :  جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مِصْرنے  حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  اے امیر! ہمارے  دریائے نیل کی ایک رَسْم ہے جب تک اُس کو ادانہ کیا جائے دریاجاری نہیں  رہتا ۔  انہوں  نے اِستفسار فرمایا : کیا؟ کہا :  ہم ایک کَنواری لڑکی کو اُسکے والِدَین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکر دریائے نیل میں  ڈالتے ہیں  ۔  حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  اسلام میں  ہرگز ایسا نہیں  ہوسکتا اور اسلام پُرانی واہِیات رَسموں  کو مٹاتا ہے  ۔  پس وہ رَسْم موقوف رکھی(یعنی روک دی) گئی اور دریا کی روانی کم ہوتی گئی یہاں  تک کہ لوگوں  نے وہاں  سے چلے جانے کاقَصْد(یعنی ارادہ) کیا، یہ دیکھ کر حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیرُالْمُؤمِنِین خلیفۂ ثانی حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خَطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی خدمت میں  تمام واقعہ لکھ بھیجا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب میں  تحریر فرمایا :  تم نے ٹھیک کیابے شک اسلام ایسی رسموں  کو مٹاتا ہے  ۔  میرے اس خط میں  ایک رُقعہ ہے اس کو   دریائے نیل میں  ڈال دینا ۔  حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جب  امیرُالْمُؤمِنِین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خط پہنچا اور انہوں      نے وہ رُقْعہ اس خط میں  سے نکالا تو اُس میں  لکھاتھا : ’’(اے دریائے نیل!)   اگرتُو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تَعَالٰی نے جاری فرمایا تو میں  واحِدوقَہَّارعَزَّوَجَلَّ سے عرض گزارہوں  کہ تجھے جاری فرمادے  ۔ ‘‘ حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ رُقْعہ  دَریائے نیل میں  ڈالا ایک رات میں  سولہ گز پانی بڑھ گیااور یہ رَسْم مِصْر سے بالکل موقوف (یعنی ختم)ہوگئی ۔ (العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی ص۳۱۸ رقم۹۴۰ )

چاہیں  تو اِشاروں  سے اپنے ، کایا ہی پلَٹ دیں  دُنیا کی

یہ شان ہے خدمت گاروں  کی، سردار کا عالَم کیا ہو گا  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس رِوایَت سے معلوم ہوا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حُکمرانی کا پرچم دریاؤں  کے پانیوں  پر بھی لہرا رہا تھا اور دریاؤں  کی رَوانی بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نافرمانی نہیں  کرتی تھی ۔  نگاہِ نُبُوّت سے فیض وبرکت یافْتہ، بارگاہِ رِسالت سے تعلیم و تربِیّت یافْتہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حُسنِ ایمان کی بَرَکات تھیں  ،ربِ کائنات عَزَّوَجَلَّ نے اَہْلِ مِصْر کو اِس بُری رَسْم سے نَجات عطا فرمائی ۔

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی                 آپ اپنے پہ قِیامت کر لی

میں  چلا ہی تھا مجھے روک لیا                مِرے اللہ نے رَحْمت کر لی(ذوقِ نعت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 21

Go To