Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سُوْرَۃُ الْحَدِیْد پارہ 27،آیت نمبر29 میں اِرشاد فرماتا ہے :

وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿٪۲۹

ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ کہ فضل اللہ( عَزَّ وَجَلَّ) کے ہاتھ ہے،دیتاہے جسے چاہے اور اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) بڑے فضل والا ہے۔

بدمَذہبیَّت سے نَفرت

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفْحات پر مشتمل کتاب، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ302 پر ہے: حضرتِ عمرِفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نَمازِ مغرِب پڑھ کر مسجِد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی: کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟ امیرُالْمُؤمِنِین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے خادِم سے ارشاد فرمایا: اسے ہمراہ لے آؤ۔ وہ آیا(تو)اسے کھانا منگا کر دیا۔ مسافِر نے کھانا شُروع ہی کیا تھا کہ ایک لفْظ اُس کی زَبان سے ایسا نکلا جس سے ’’بدمذہبی کی بُو‘‘ آتی تھی ، فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا۔ (کَنْزُ الْعُمّال ج۱۰ ص ۱۱۷رقم ۲۹۳۸۴)

فارِقِ حقّ و باطِل امامُ الھُدٰی

تیغِ مَسلُولِ شدَّت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش شریف)

اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اس شعرکا مطلب ہے: حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حق و باطل میں فرق کرنے والے، ہِدایَت کے اِمام اور اِسلام کی حِمایَت میں سختی سے بلند کی ہوئی تَلوار کی طرح ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر لاکھوں سلام ہوں۔

 



Total Pages: 48

Go To