Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نشانہ نہ بناؤ، جس نے اِنہیں مَحْبوب رکھا میری مَحَبَّت کی وجہ سے محبوب (یعنی پیارا) رکھا اور جس نے اِن سے بُغْض کیا اُس نے مجھ سے بُغض کیا، جس نے اِنہیں اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی، جس نے مجھے اِیذا دی بیشک اُس نے اللہ تَعَالٰی کو اِیذا دی، جس نے اللہ تَعَالٰی کو اِیذا دی قریب ہے کہ اللہ تَعَالٰی اُسے گِرِفتار کرے۔(تِرمِذی ج۵ ص۴۶۳ حدیث۳۸۸۸ )

ہم کواصحابِ نبی سے پیار ہے اِن شاءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے

صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :’’مسلمان کو چاہیے کہ صَحابۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کا نہایت ادَب رکھے اور دل میں اُن کی عقیدت ومَحَبَّت کو جگہ دے۔ اُن کی مَحَبَّت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی مَحَبَّت ہے اور جو بد نصیب صَحا بۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کی شان میں بے ادَبی کے ساتھ زَبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے ،مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔‘‘ (سوانِحِ کربلا ص۳۱ )میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :

اہلسنّت کا ہے بَیڑا پار اَصحابِ حُضُور

نَجْم ہیں اور ناؤ ہے عِتْرَت رسولُ اللہ کی (حدائقِ بخشش)

اس شعر کامطلب ہے کہ اہلسنَّت کا بیڑا (یعنی کَشتی)پار ہے کیونکہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اِن کیلئے ستاروں کی مانِند اور اہلِ بیتِ اَطہار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کشتی کی طرح ہیں۔


 

 



Total Pages: 48

Go To