Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ان کا غلام ہے۔(کَنْزُ الْعُمّال ج۵ص۳۰۳ رقم ۱۴۳۰۳)

فاروقِ اَعظم کا جنّتی مَحَل

محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت،رسولِ رَحْمت ،مالک ِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت کے مطابِق حضرت ِسیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ میں شامل قَطْعی جنَّتی ہیں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رِوایت کرتے ہیں کہ محبوبِ رَحمن،نبیِّ غیب ِ دان،رسولِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا: میں جنّت میں گیا، وہاں میں نے ایک مَحَل دیکھا ، اِستِفسار کیا:(یعنی پوچھا) یہ مَحَل کس کا ہے؟ فِرِشتے نے عَرْض کی: حضرتِ عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ۔ میں نے چاہا کہ اندر داخِل ہو کر اسے دیکھوں لیکن(اے عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!) تمہاری غیرت یاد آگئی۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کرنے لگے : یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان، کیا میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر غیرت کر سکتا ہوں ؟( بُخاری ج ۲ ص۵۲۵حدیث۳۶۷۹)اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :

لَا وَرَبِّ الْعَرْشجس کو جو ملا اُن سے ملا بٹتی ہے کونین میں نعمت رسولُ اللہ کی

خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسولُ اللہ کی

پہلے شعرکامطلب ہے:عَرشِ اَعظم کے پیدا کرنے والے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جس کسی کو جو کچھ ملا ہے حضُورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاک در سے ملا ہے، کیونکہ دونوں جہانوں میں رسولِ کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيْم ہی کا صدقہ تقسیم ہو رہا ہے۔


 

 



Total Pages: 48

Go To