Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

السَّلَام)نے کہا ہے کہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا ۔  (حلیۃ الاولیاء ج۲ ص۱۷۵)

مَرَضُ الوِصال میں   بھی نیکی کی دعوت

    امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو ایک نوجوان تسلّی دینے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں  حاضر ہوا اور کہا :  ا ے امیرُالْمُؤمِنِین!اللہ کی طرف سے آپ کو بِشارت ہوکیونکہ آپ کو رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صُحبت اور اسلام میں  سَبَقَت نصیب ہوئی ،جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اور جب خلیفہ بنائے گئے تو عدل وانصاف کیا پھر آپ شہید ہونے والے ہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’میں  چاہتا ہوں  کہ یہ اُمُور میرے لیے برابر برابر ہو جائیں  ، نہ مجھ پر کسی کا حق نکلے نہ میرا کسی پر ۔ ‘‘ جب وہ شخص جانے لگاتو اس کی چادر زمین کو چُھو رہی تھی ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  اس کو میرے پاس لاؤ  ۔  جب وہ آگیا تو فرمایا : اے بھتیجے ! اپنے کپڑے کو اوپر کر لے یہ تیرے کپڑے کو زیادہ صاف رکھے گا اوریہ اللہکو بھی پسند ہے  ۔

                             (بخاری ج۲ص۵۳۲ حدیث۳۷۰۰)

شدید زَخْمی حالت میں  نَماز

      جب حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پرقاتِلانہ حملہ ہواتوعَرْض کی گئی :  اے امیرُالْمُؤمِنِین!نَماز(کا وقت ہے )فرمایا  : جی ہاں  ،سنئے !’’جو شخص نَمازضائِع کرتا ہے اُس کا اسلام میں  کوئی حِصّہ نہیں  ۔ ‘‘ اور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شدید زَخمی ہونے کے باوُجُودنَماز ادا فرمائی ۔  (کتابُ الْکَبائِرص۲۲)

قَبْر میں  بدن سلامت

      ’’ بخاری شریف ‘‘میں  ہے  : حضرت عُروہ بن زُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں  جب روضۂ منوَّرہ کی دیوار گری تو لوگ اُس کوبنانے لگے ،( بنیاد کھودتے وقت ) ایک پاؤں  ظاہر ہوا تو سب لوگ گھبرا گئے اور لوگوں  نے گمان یہ کیا کہ یہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قدم مبارَک ہے اور کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان سکتاتو حضرت عروہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا :  لَا، وَاﷲِ! مَاھِیَ قَدَمُ النَّبِیِّ صلَّی ا ﷲعلیہ وسلَّم، مَا ھِیَ اِلَّا قَدَمُ عُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ ۔  یعنی خدا کی قسم! یہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قدم شریف نہیں  ہے بلکہ یہ حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قدم مبارک  ہے  ۔  (بُخاری شریف ج۱ ص۴۶۹حدیث ۱۳۹۰) 

جَبیں  میلی نہیں  ہوتی دَھن میلا نہیں  ہوتا

غلامانِ محمد کاکفن میلا نہیں  ہوتا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنَّت کی فضیلت اور چند سنَّتیں  اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں  ۔  تاجدارِ رسالت،  شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رَحْمت،شَمْعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بز مِ جنَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنَّت نشان ہے :  جس نے میری  سنَّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنَّت  میں  میرے ساتھ ہو گا  ۔  (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)

سینہ تری سنَّت کا مدینہ بنے آقا

جنَّت میں  پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

 



Total Pages: 21

Go To