Book Name:Karamaat e Farooq e Azam رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ!کیا شان ہے فاروقِ اَعظم حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کہ بعطائے ربِّ اکبرعَزَّوَجَلَّ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اہلِ قَبْر کے اَحوال معلوم کرلئے۔ اِس رِوایَت سے یہ بھی پتاچلا کہ جوشخص نیکیوں بھری زندَگی گزارے گا اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرزاں وترساں رہے گا ،بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں کھڑا ہو نے سے ڈرے گا،وہ اللہُ رَبُّ الْعُلٰی عَزَّوَجَلَّ کی رحمتِ کامِلہ سے دو جنّتوں کا حقدار قرار پائے گا۔ جَوانی میں عِبادت کرنے اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ رکھنے والوں کو مبارَک ہو کہ بروزِ قِیامت جب سورج ایک میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا، سایۂ عرش کے عِلاوہ اُس جاں گُزا (یعنی جان کو تکلیف میں ڈالنے والی ) گرمی سے بچنے کا کوئی ذَرِیْعہ نہ ہوگا تواللہُ رَحْمٰن عَزَّوَجَلَّ ایسے خوش قسمت مسلمان کو اپنے عرشِ پناہ گاہِ اہلِ فَرْش کا سایۂ رَحْمت عنایت فرمائے گاجیسا کہ

سایۂ عرش پانے والے خوش نصیب

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ88 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’سایۂ عرش کس کس کو ملے گا؟‘‘ صَفْحَہ20 پر حضرتِ سیِّدُنا اِمام جلالُ الدِّین سُیُوطی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا سَلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوالدَّرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف خط لکھا کہ اِن صِفات کے حامِل مسلمان عرش کے سائے میں ہوں گے: (اُن میں سے دو یہ ہیں )(۱)…وہ شخص جس کی نَشْوونُمااِس حال میں ہوئی کہ اُس کی صحبت، جَوانی اورقُوّت اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ


 

 



Total Pages: 48

Go To