Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

جواب : نَماز کو ناپسند سمجھتے ہوئے بوجھ تصوُّر کرناکُفْر ہے ۔  فُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام فرماتے ہیں   : جو شخص فرض نَماز کو ناپسند کرے وہ کافر ہے ۔ (  مِنَحُ الرَّوْض ص۴۶۶) میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : رَمَضان خُصُوصاً گرمیوں   کے روزے ، نَماز خُصُوصاً جاڑو ں   (یعنی سردیوں  ) میں  صبح وعشاء کی نَفسِ اَمّارہ پر شاق (دشوار) ہوتی ہے ، اس سے کافِر نہیں   ہوتا جب کہ دل سے اَحکام کو حقّ و نافِع(نفع بخش) جانتا ہے ۔  ہاں  اگر دل سے (یعنی زبان سے کہے یا نہ کہے صرف دل میں   بھی اگر ) نَماز کو بیکاراور روزے کو مفت کا فاقہ جانے تو ضَرور کافِر ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص ۳۶۵)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نَمازو اَحکامِ شریعت کے مُعامَلہ میں   زَبان اوردل کوبَہُت قابو میں   رکھنے کی ضَرورت ہے کہیں   ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لغزِش ہمیشہ کے لئے جہنَّم میں  پہنچا دے ۔

 ’’  آپ لوگ اللہ کا پیٹ بھریں    ‘‘  کہنا کیسا ؟

سُوال :  ایک مقرِّر نے نَماز کی ترغیب دلاتے ہوئے کہا :   ’’ اگر آپ لوگ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا پیٹ بھریں   گے تواللہ  عَزَّوَجَلَّ  آپ کا پیٹ بھرے گا ۔  ‘‘  جب اُس کو اِس جملہ کی طرف توجُّہ دلائی گئی تو اُس نے کہا :  ’’  اللّٰہ کا پیٹ بھرنے سے مُراد اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرناہے ۔  ‘‘ اس مقرّر کیلئے کیا حکم ہے ؟

جواب :  یہ جُملہ کُفریہ ہے ۔   ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا پیٹ بھرنا ‘‘ کے معنی     ٰ ’’ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی عبادت  ‘‘ کرنا جو اُس  نے بتائے یہ بھی سر ا سر غَلَط ہیں   ۔ جو عالم نہ ہو اُسے بیان کرنے کی شَرعاً اجازت نہیں   ۔

 اُس کو چاہئے کہ عُلَمائے اہلسنّت کی کِتابوں   سے ضَرورتاً فوٹو کاپیاں   کروا کر اپنی ڈائِری میں   چَسپاں   کر لے اور دیکھ دیکھ کر بیان سنائے ۔  پڑھ کر سناتے ہوئے بھی اپنی طرف سے اگر ’’  چُونکہ چُنانچِہ  ‘‘  کرتا رہا یعنی خُلاصہ کرنے بیٹھ گیا تو خطرہ ہے کہ کیا کا کیا بول جائے ! لہٰذااپنے آپ کو گناہ سے بچانا اور ثواب کمانا چاہتا ہے توعُلمائے کرام نے جو لکھا ہے صِرف وُہی پڑھ دے ۔ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ہم سب کا ایمان سلامت رکھے اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     

  ’’ کون سے گناہ کئے جنہیں   بخشوانے کیلئے نَماز پڑھیں   !  ‘‘  کہنا

 سُوال : نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا :  ’’  ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں   جن کو بخْشوانے کیلئے  نَماز پڑھیں  !  ‘‘ اِس طرح کے جُملے کہنا کیساہے ؟

جواب :   مذکورہ جُملے میں   نَماز کی توہین اور اسکی فرضِیَّت کا انکار پایا جا رہا ہے اوریہ کُفْر ہے ۔

 ’’  اٰمین  ‘‘  کا مذاق اُڑانا

سُوال :  باجماعت نَماز میں   شَوافِع یا حَنابِلہ مُقتدیوں   نے سورۃُ الفاتِحہ کے  اِختِتام پر اٰمین بِالجَہر (یعنی بُلند آواز سے اٰمین ) کہی ۔ یہ سُن کر اگر کسی نے مذاق اُڑاتے ہوئے آواز کو کھینچ کر  ’’ اَمْ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ مِی ‘‘ کہا ، تو اُس کے لئے کیا حکم ہے ؟

جواب :  اگر مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ   اٰمین کامذاق اُڑانا مقصود ہو تو کُفر ہے ۔

قِبلہ رُو تُھوکنا

سُوال :  اگرکسی نے کعبہ شریف کی طرف تھوک دیا ، اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟

جواب :  اگر خانہ کعبہ کی توہین مقصود ہو توایسا شخص کافِر ومُرتَد ہو گیا لیکن یہ کسی مسلمان سے مُتَصوَّر(مُ ۔ تَ ۔ صَو ۔ وَر) نہیں   (یعنی مسلمان کے بارے میں   ایسا گمان نہیں   کیا جا سکتا)اور اگر تحقیر کی نیّت نہ ہو تو کافِر نہ ہوگا مگر پھر بھی قبلہ رُو تھوکنے سے بچنا چاہئے ۔ اِس ضِمن میں   ایک سبق آموز حکایت مُلاحَظہ فرمائیے ۔  چُنانچِہ

قبلہ کی طرف تھوکنے والے کی حکایت

        میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عمی بسطامی کے والِد رَحِمَہُمَ ا اللّٰہُ تعالٰی سے فرمایا : چلو اُس شخص کو دیکھیں   جس نے اپنے آپ کو بنامِ وِلایت مشہور کیا ہے  ۔ وہ شخص مَرجَعِ ناس و مشہورِ زُہد تھا ، (یعنی عقیدتمندوں   کا اُس کے پا س ہُجوم رہتا تھا اور دنیا سے بے رغبتی میں   اُس کی شہرت تھی)جب وہاں   تشریف لے گئے اِتَّفاقاً اُس نے قبلہ کی طرف تھوکا ، حضرت ِ سیِّدُناابو یزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فوراً واپَس آئے اور اس سے سلام علیک نہ کی اور فرمایا :  یہ شخص رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آداب سے ایک ادب پر تواَمین ہے نہیں  ، جس چیز کا اِدِّعا (یعنی دعویٰ کرنا) رکھتا ہے اُس پر کیا امین ہو گا ۔ ( الرِّسالۃُ القُشَیرِیّہ    ص ۳۸ ۔  فتاوٰی رضویہ ج ۲۱ ص۵۳۹))اور دوسری رِوایت میں   ہے ، فرمایا :  یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر توامین ہے نہیں   اَسرارِ اِلہٰیّہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے رازوں  ) پر کیوں   کر امین ہو گا ! (اَیضاً          ص ۲۹۲، ایضاً ص ۵۴۰)) حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : اگر تم کسی شخص کو ایسی کرامت دیا گیا بھی دیکھوکہ ہوا پر چار زانو بیٹھ سکتا ہے تب بھی اُس سے فریب(دھوکا) نہ کھانا جب تک کہ فرض و واجِب، مکروہ و حرام ا ور محافَظَتِ حُدود و آدابِ شریعت میں   اس کا حال نہ دیکھ لو ۔  (اَیضاً ص ۳۸، ایضاً  ص ۵۴۰)

        قِبلہ رُو تھوکنے والا پیش امام  

            رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اُس نے قِبلہ کی طرف منہ کر کے تھوکا ہے تو آپ

Total Pages: 147

Go To