Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

جواب :  شارِحِ بخاری ، نائبِ مفتیٔ اعظم ہند حضرتِ علامہ مولیٰنا مفتی محمد شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  ، نُزْھَۃُ الْقاری شَرحِ صحیح بُخاریجلد اوّلصَفْحَہ31 پر ان کی تعریفات یُوں   بیان فرماتے ہیں  : حدیث :  حُضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قول ، فِعل، حال اور تقریر کو کہتے ہیں  ۔ بعض حضرات اس میں  تَعمیم کرتے ہیں   کہ صَحابی اور تابِعی کے اقوال و افعال، اَحوال وتَقریرات بھی حدیث ہیں   ۔ لیکن عام شائِع ذائِع پہلا ہی مُحاوَرَہ ہے ۔  لفظِ حدیث سے اوّل وَہلَہ(یعنی پہلی ہی بار ) میں  ذِہن اِسی طرف جاتا ہے کہ یہ رَسُوْلُ اللہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا قَول یا فعل یا حال یا تقریر ہے ۔  ’’ تقریر ‘‘  سے مُراد یہ ہے کہ حضُورِ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کسی صَحابی نے کچھ کیا یا کہا اور حضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سُکوت(یعنی خاموشی کو) اختیار فرمایا یہ ’’  تقریر  ‘‘  ہے ۔  خبر : خبر اور حدیث اصل میں   مُرادِف (یعنی ہم معنیٰ ہی) ہیں  ۔ مگر کچھ لوگ (یعنی کچھ محدّثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام) حُضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور صَحابہ و تابِعین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجمَعِینکے اَقوال و اَفعال ہی کو حدیث کہتے ہیں   اور سَلاطِین ، اُمَراء ، حُکاّم اور گُزَشتہ زمانے کے اَحوال کو خبر کہتے ہیں ۔  حدیثِ مُتَواتِر : وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر دَور میں   اتنے زیادہ ہوں   کہ عادت ان سب کے جُھوٹ پر مُتَّفق ہونے کو محال(یعنی ناممکن) قرار دے ۔

خبرِ واحِد کی تعریف

سُوال :   ’’ خبرِواحِد  ‘‘ کسے کہتے ہیں  ؟

جواب :  جس حدیث میں   ’’  خبرِمُتَواتِر  ‘‘ کی کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ خبرِ واحد ہے ۔  (شرح نخبۃ الفکر للعسقلانی ص ۳۱)

 ’’ ہم پررب کا کرم ہے  ‘‘  کے تیرہ حُروف کی نسبت سے پچھلی اُمتّوں   کے اَعمال کی 13 جھلکیاں 

(1تا 9 اَحکام خاص یہود کیلئے تھے اور بَقِیَّہ میں   کئی دوسری اُمّتیں   بھی شامل تھیں   ) ۔

          {1}زکوٰۃ میں  چوتھائی مال ادا کرنا فرض تھا([1]){2} چَربی حرام تھی([2]){3}اُونٹ کا گوشت حرام تھا([3]){4تا6 } جس عُضو سے گناہ ہوتا تھااُس کو کاٹ دیا جاتا تھا، قِصاص میں   قَتل کرنا لازِم تھا، دِیَت( یعنی خون بہا) مشروع نہ تھی([4]) {7 ۔ 8 }نَجس کپڑا کاٹے بِغیر پاک نہیں   ہوتا تھا ۔  بعض گناہوں   کی سزا میں   ان کی صورَتوں   کو مسخ کر کے بندر اور خِنزیربنا دیا جاتا تھا ([5]){9 } ہفتہ کے دن شکارکی اجازت نہ تھی([6]) {10تا12 } مالِ غنیمت حلال نہیں   تھا، مسجِد کے سوا کسی اور جگہ نَماز نہیں   پڑھ سکتے تھے ، تَیَمُّم کی سَہولت نہیں   تھی([7])

 

{13}بعض قربانیوں   کا گوشت دوسرے دینوں   میں   کھایا نہیں   جاتا تھا ۔          

نیکی کی دعوت کی توہین

 سُوال :  ایک مبلِّغ نے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے بے نَماز ی کو نَماز کی دعوت دی اس پر مبلِّغ کو کسی نے دعوتِ نَماز سے منع کیا اوردعوتِ نماز کے بارے میں  کہا :  اس میں   رکھا ہی کیا ہے ! اس طرح کہنے والے کا کیا حُکم ہے ؟

جواب :  اسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : اَمرٌ بِالمَعرُوف وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر  ( یعنی نیکی کا حکم کرنا اور بُرائی سے منع کرنا)  فرض ہے ، (اور) فرض سے روکنا شیطانی کام ہے ۔  بنی اسرائیل میں   جنھوں   نے مچھلی کا شکار کیا تھا وہ بھی بندر کردئے گئے اور  جنھوں   نے انہیں   نصیحت کرنے کو منع کیا تھا کہ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ     اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ- ( ترجمۂ کنزالایمان : کیوں   نصیحت کرتے ہو ان لوگوں   کو جنہیں   اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں   سخت عذاب دینے والا ۔ (پ۹الاعراف۱۶۴ )یہ بھی تباہ ہوئے اور نصیحت کرنے والوں   نے نَجات پائی  ۔ اور یہ کہناکہ  ’’ اس میں   رکھا ہی کیا ہے  ‘‘ سب سے سخت کلمہ ہے ۔ اس کہنے والے کو تجدیدِ اسلام وتجدید نِکاح چاہئے ۔   (فتاوٰی رضویہ ج ۵ ص ۱۱۷)

شریعت کی توہین کے مُتَعَلِّق  کُفریّات کی38 مثالیں

{1}    جوشخص کسی حکمِ الہٰیعَزَّوَجَلَّ ے بارے میں   کہے :  ’’ اس پر کون قادِر ہے جو اسے بجالائے  ‘‘  ایسے پر حکمِ کفر ہے ۔ (مِنَحُ الرَّوض ص ۴۷۱)

{2}  جو کہے :  مجھیاللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ  کا حکم یا{3} نبیِّ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کی

Total Pages: 147

Go To