Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

مِرزاؔ سرِ نیاز جھکاتا ہے اس لئے

شِعر و ادب پہ آپ کا اِحساں   ہے آج بھی

                مزید معلوما ت کیلئے حیاتِ اعلیٰ حضرت (تین جِلدیں  ) مکتبۃ المدینہ سے ہدِیّۃً حاصل کر کے مُطالعہ فرمایئے ۔ اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      

 اس جُملے  ’’ اللّٰہ کرم فرما دے گا ‘‘  کو رَد کر دینا کیسا ؟

سُوال : مُرید نے پیر صاحِب سے اپنی پریشانی بیان کی ۔  پیر صاحِب نے کہا :  اللہ کرم فرما دے گا ۔  اِس پرمُرید نے کہا :  ’’  نہیں  ، بس آپ کرم فرما دیجئے ۔  ‘‘  کیا حکم ِ شَرعی ہے ؟

جواب  : مرید کے جواب میں   بظاہراس بات ’’  اللہ کرم فرمادے گا ‘‘  کا ردّ اور انکار ہے اس لئے مُرید پر حکمِ کفر ہے ۔

 

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  زبان کو بَہُت سنبھال کر چلانا ضَروری ہے کہ جب یہ قینچی کی طرح چلتی ہے تو اس سے کفریات صادر ہوتے دیر نہیں   لگتی ۔ آہ !  بسا اوقات نہ بولنے کا بول کر بندہ اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اس کو کانوں   کان خبرتک نہیں   ہوتی !

مِرا ایمان اِلہٰی تُوسلامت رکھنا

مجھ پہ ہر آن فَقَط اپنی عنایت رکھنا

یا مرشد  !  ’’  آپ کرم فرمادیجئے  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :  تو کیا اپنے پیرو مرشد سے یہ نہیں   کہہ سکتے کہ ’’  یا مرشد آپ کرم فرما دیجئے ۔ ‘ ‘

جواب :  اپنے پیرو مرشِد سے مُطلَقاً کرم کی بھیک مانگنے میں   کوئی حرج نہیں   ۔ اگر مرشد کامل ہو تو اپنی زندگی میں   بھی وہ نظرِ کرم ، توجُّہ اور دعاؤں   سے مُریدوں   کے کام بناتا ہے اور بعدِ وصال بھی اُس کا فیض جاری و ساری رہتا ہے ۔   ؎

مُحِی دیں   غوث ہیں   اور خواجہ مُعینُ الدّیں   ہیں

اے حسنؔ کیوں   نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !   تمام مُجتَہِدِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین اپنے اپنے مُقَلِّدین کو اور جُملہ مشائخ و مُرشِدِین اپنے اپنے مُریدین کو دنیا و آخِرت میں   فیض پہنچاتے اور ان کی بگڑیاں   بناتے ہیں ۔  چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 9صَفْحَہ769 تا770پر فرماتے ہیں   : اَلْحمد لِلّٰہ(بعدِ وفات) بَرزخ میں   بھی ان کا فیض جاری اور غلاموں   کے ساتھ وُہی شانِ امدادویاری ہے ۔ امامِ اَجَل عبدُالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی میزانُ الشَّریعۃِ الکُبرٰی میں   ارشاد فرماتے ہیں  : تمام آئِمّۂ مُجتَہِدِین (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین) اپنے پَیروؤں  (اتِّباع کرنے والوں  ) کی شَفاعت کرتے ہیں   اور دُنیا و برزخ وقِیامت ہر جگہ کی سختیوں   میں   ان پر نگاہ رکھتے ہیں   یہاں   تک کہ(پُل) صراط سے پار ہو جائیں   ۔ (المیزانُ الکبرٰی ج ۱ ص ۹ )اِسی امامِ اَجَل نے اِسی کتابِ اَجمل میں   فرمایا :  تمام ائِمّۂ فُقَہاء و صُوفیہ اپنے اپنے مُقَلِّدوں   کی شَفاعت کرتے ہیں   اور جب ان کے مُقَلِّدکی رُوح نکلتی ہے ، جب مُنکَرنَکِیر اُس سے سُوال کو آتے ہیں  ، جب اس کا حشر ہوتا ہے ، جب نامۂ اعمال کُھلتے ہیں  ، جب حساب لیا جاتا ہے ، جب عمل تُلتے ہیں  ، جب (پُل)صِراط پر چلتا ہے ، غَرَض ہر حال میں   اس کی نگہبانی فرماتے ہیں   اور کسی جگہ اس سے غافِل نہیں   ہوتے ۔ حضرتِ امام شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانی مزیدفرماتے ہیں   : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امام مالِک نے قَبر میں  جا کر اِمداد فرمائی

            ہمارے استاذ شیخُ الاسلام امام ناصِرُ الدّین لقانی مالکی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا جب انتِقال ہوا بعض صالِحوں  (یعنی نیک لوگوں  ) نے اُنھیں   خواب میں   دیکھا، (تو) پُوچھا :  اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا کیا ؟ کہا :  جب  مُنکَر نَکِیر نے مجھے سُوال کے لئے بٹھایا (کہ سیِّدُنا)امام مالک(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) تشریف لائے اوران (یعنی مُنکَر نَکِیر ) سے فرمایا : (کیا) ایسا شخص(یعنی اتنا زبردست عالمِ دین) بھی اِس (بات) کی حاجت رکھتا ہے کہ اس سے خدا و رسول(عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    ) پر ایمان کے بارے میں   سُوال کیا جائے ! الگ ہو(جایئے ) اس کے پاس سے ۔  (سیِّدُنا امامِ مالک کے ) یہ فرماتے ہی نکیرَین مجھ سے الگ ہو گئے ۔  اور جب مشائخِ کرام صُوفِیہ قُدِّسَتْ اَسْرَارُہُمہَول وسختی کے وقت دنیا و آخِرت میں   اپنے پَیروؤں  (اتِّباع کرنے والو )  اور مُریدوں   کا لحاظ رکھتے ہیں   تو اُن پیشوایانِ مذاہِب کاکہنا ہی کیا جو زمین کی مِیخَیں   (مِیْ ۔ خَیں   )  ہیں   اوردین کے سُتون، اور شارِعصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اُمّت پر اُس کے اَمین ۔  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِین ۔     (المیزانُ الکبری ج ۱ ص ۵۳، فتاوٰی رضویہ )

صاحِبِ مزار کا اپنے زائر کی خبر گیری کرنا

            اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامپر ربُّ الانامجَلَّ جَلا لُہٗ کے خوب خوب انعام و اکرام ہوتے ہیں   ان کی عظمتوں   کے کیا کہنے  ! میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : حضرتِ سیِّدی احمد بدوی کبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ جن کی مجلسِ مِیلادمِصرمیں   ہوتی ہے ۔  مزارِ مبارک پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی ولادت کے دن ہر سال مَجمع ہوتا ہے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا مِیلاد پڑھا جاتا ہے ۔  امام عبدُالوَہاب شَعرانی  قُدِّسَ  سِرُّہُ الرَّباّنی اِلتِزام کے ساتھ ہر سال حاضِر ہوتے ، اپنی کتاب میں   بھی



Total Pages: 147

Go To