Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

کُفرِیّہ افعال کے بارے میں   سُوال جواب

سُوال :  جس طرح کفرِیہ اقوال ہوتے ہیں   کیا اِسی طرح کفرِیہ افعال بھی ہوتے ہیں  ؟

جواب :  جی ہاں   ۔ چُنانچِہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   : عملِ جَوارِح  (یعنی ظاہِری اعضاء کے ذریعے کئے جانے والے عمل)داخلِ ایمان نہیں  ۔ البتّہ بعض اعمال جو قَطعاً مُنافِیٔ ایمان (یعنی یقینی طور پر ایمان کے اُلَٹ)ہوں   اُن کے مُرتکب کو کافِر کہاجائیگا  ۔ جیسے بُت یا چاند سورج کوسَجدہ کرنا اور قَتلِ نبی یا نبی کی توہین یا مُصحَف شریف (یعنی قراٰنِ پاک) یا کعبۂ معظمہ کی توہین اور کسی سُنّت کو ہلکا بتانا یہ باتیں   یقینا کُفر ہیں  ۔ یوہیں   بعض اعمال کُفر کی علامت ہیں   جیسے زُنّار باندھنا([1])، سرپر چُٹیا رکھنا ، قَشقہ(یعنی ہندؤوں   کی طرح پیشانی پر مخصوص قسم کا ٹیکا)  لگانا ۔  ایسے افعال کے مُرتکب کوفُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کافِر کہتے ہیں  ۔ تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو ان کے مُرتکِب کو ازسرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نِکاح کا حکم دیا جائیگا ۔  (بہارِ شریعت حصّہ اول ص ۹۴ )

ماتھے پر قَشقہ لگانا کیسا ؟

سُوال :  ماتھے (یعنی پیشانی) پر ہندؤوں   کی طرحقَشقہلگانا کیسا ؟

جواب : کُفر ہے ۔ اِس ضِمن میں  فتاوٰی رضویہ شریف کے ایک سُوال کا خُلاصہ اور اس کا جواب نَقل کرتا ہوں ۔ سُوال : ہندوستان میں   مسلمانوں   اور ہندؤوں   کے ایک مُشتَرَکہ جلسے میں  ہِندؤوں   نے مسلمانوں   کو چَندَن( قَشقہ، ٹیکا) لگایا تو بعضوں   نے نہیں   لگوایا اور بعضوں   نے روکا نہیں  (یعنی منع نہیں   کیا) بلکہ لگوایا پھر بعدکو اُسی وقت یا تھوڑی دیر کے بعد صاف کرلیا اور کچھ لوگوں   نے لگا رہنے دیا اور اِسی حال میں   گھر لوٹے یا شام تک لگا رہنے دیا ۔  ان تین طرح کے لوگوں   کے بارے میں   کیا حکمِ شرعی ہے ؟ الجواب : اُس جلسے میں   شرکت حرام حرام سخت حرام تھی بلکہ فُقَہائے کرام (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام )کے طور پرحکم سخت تر ۔ ر سولُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   فرماتے ہیں  : جو کسی مشرِک کے ساتھ مَیل جُول رکھے اور اُس کے ساتھ سُکونَت پذیر رہے تو وہ بھی اُسی جیسا ہے ۔ ( سُنَنُ ابی داوٗدج۳ ص۱۲۲ حدیث ۲۷۸۷)دوسری حدیث میں   ہے ، رَسُوْلُ اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   فرماتے ہیں  : جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں   سے ہے ۔ (تاریخِ بغداد ج۱۰ ص ۴۲ حدیث ۵۱۶۷  ) قَشْقَہ( ٹیکا) کہ ماتھے (یعنی پیشانی) پر لگایا جاتا ہے صِرف شِعارِ کّفار نہیں   بلکہ خاص شِعارِکُفر(یعنی کُفر کاطور طریقہ )بلکہ اس سے بھی اَخْبَث (یعنی ناپاک ترین) خاص طریقۂ عبادتِ مَہا دَیو وغیرہ اَصنام (یعنی بُتوں   کی پوجا پاٹ کے طریقے ) سے ہے ۔  اِس کے لگانے پر راضی ہونا کُفر پر رِضا (راضی ہونا)ہے اور اپنے لئے ثُبوتِ کفر پر رِضا بِالاِ جماع کُفر ہے  ۔  ’’ مِنَحُ الرَّوْض ‘‘  میں   ہے :  جو اپنی ذات کے کُفر پرراضی ہو اوہ بِالاِتِّفاق کافِر ہے اور جو کسی کے کُفر پر راضی ہوا اس کے بارے میں   مَشائخ کا اِختِلاف ہے ۔ ( مِنَحُ الرَّوضص ۴۸۴ )اور کفر پر رِضاجَیسی سوبرس کے لئے ویسے ہی ایک لمحہ کے لئے ۔ پُونچھ ڈالنے سے کُفرجو واقِع ہولیامِٹ نہ جائیگا جب تک ازسرِ نو اسلام نہ لائے ، جیسے جو مَہا دَیو (ہندؤں   کے بُت)کے آگے دن بھر سجدہ میں   پڑ رہے وہ بھی کافِر اور جو سجدہ کر کے (فوراً)سر اٹھا لے وہ بھی کافِر ۔ وَالْعِیاذُ بِاللّٰہِ تعالٰی ۔      (فتاوٰی رضویہ ج  ۱۴  ص ۶۷۵، ۶۷۷)

کُفری بات سُن کر ہنسنا

 سُوال : کُفْری بات پر ہنسنے والوں   پر کیاحُکم ہوگا ؟

 جواب :  کُفْریہ بات سُن کرہنسنے کی دو صورَتیں   ہیں  (۱) بے اختیار(۲) رِضا مندی کے ساتھ ۔ اگرکُفْریہ بات ایسی تھی کہ جس پربے اختیار ہنسی آئی توحکْمِ کُفْرنہیں   اور اگردل میں   اُس کُفْرپر اِتّفاق و رِضا مندی بھی ہے تواِس ہنسنے والے پر بھی حکْمِ کُفْرہے ۔  (مِنَحُ الرَّوض  ص۴۲۶)

کفریہ مضمون کی کمپوزِنگ چھپائی اور خریدوفروخت

سُوال :  زیدایک پرنٹنگ پریس میں   بطورِکمپوزَر مُلازَمت کرتا ہے ۔  کبھی کبھی ایسے مضامین بھی کمپوز کرنے پڑتے ہیں   جن میں   کُفریہ کلمات نیز اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی شان میں

   گُستاخیاں  ہوتی ہیں  ۔ زید کیلئے کیا حکمِ شرعی ہے ؟

جواب :  زَید ِ بے قَیدسخت گُنہگار اور جہنَّم کا حقدار ہے ۔ اس بے باک کو  ٹھنڈے دل سے اتنا ہی سوچ لینا چاہئے کہ اگر اس سے کوئی کہے کہ اپنے ماں   باپ کو فَقَط ایک ہی گالی کمپوز کر دے تجھے دس ہزار روپے اُجرت دوں   گا تو کیا وہ ایسا کرے گا ؟ غیرتمند ہوگا توہر گز نہیں   کریگا ۔ تو پھر دو ٹکے کی نوکری بچانے کیلئے  اللہ و رسول یا صَحابہ و اولیا عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کی شانِ عظمت نشان میں   گُستاخانہ کلمات اور اسلام کے خلاف بکواسات کمپوز کرنے کی جِسارت اس کو کس طرح ہو جاتی ہے ! جن میں   ایک بھی کلِمۂ کفر ہو ایسے کُتُب ورسائل و اخبارات کی کِتابت یا کمپوزنگ یا چھپائی یا فوٹو کاپی یا خرید وفروخت کرنے والوں   یابِلامَصلَحَت شَرعی ان میں   کسی طرح سے حصّہ لینے والوں   کی تَنبیہ (تَم ۔ بِیْہ) کیلئے فتاوٰی  رضویہ جلد 21 صَفْحَہ 137تا139پر دیا ہوا ایک عبرتناک فتویٰ پیش کرتا ہوں   اِس کو بغور پڑھئے اور غور وتفکُّر کر کے اپنی آخِرت کی بربادی سے بچنے کی راہ نکالئے ۔  چُنانچِہ

 

 میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان



Total Pages: 147

Go To