Book Name:Meethay Bol

وَسَلَّمَکافرمانِ حقیقت نشان ہے :  کوئی شخص اچھی بات بول دیتا ہے اُس کی انتِہا نہیں جانتا اس کی وجہ سے اس کے لیے  اللہ  کی رِضا اُس دن تک کیلئے لکھی جاتی ہے جب وہ اسے ملیگا ۔ اورایک آدمی بُری بات بول دیتا ہے جس کی انتہا نہیں جانتااللہ اس کی وجہ سے اپنی ناراضی اُس دن تک لکھ دیتا ہے جب وہ اس سے ملے گا ۔  ( مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۲ ص۱۹۳ حدیث ۴۸۳۳ ، سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۱۴۳ حدیث۲۳۲۶

       مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  : (بعض اوقات آدمی)کوئی بات ایسی بُری بول دیتا ہے جس سے رب تعالٰی ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جاتا ہے لہٰذا انسان کو چاہئے کہ بَہُت سوچ سمجھ کر بات کیاکرے ۔ حضرتِ سیِّدُنا علقمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بَہُت سی باتوں سے بِلال ابنِ حارث(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی (مذکورہ)حدیث روک دیتی ہے ۔ (مرقات) یعنی میں کچھ بولنا چاہتا ہوں کہ یہ حدیث سامنے آ جاتی ہے اور میں خاموش ہو جاتا ہوں ۔   (مِراٰۃ ج ۶ ص ۴۶۲)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے سوچے سمجھے بول پڑنا بے حد خطرناک نتائج کاحامل ہوسکتا ۔  اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ      کی ہمیشہ ہمیشہ کی ناراضی کا با عِث بن سکتا ہے ۔  یقینا زَبان کا قفلِ مدینہ لگانے ہی میں عافیت ہے ۔  خاموشی کی عادت ڈالنے کیلئے کچھ نہ کچھ گفتگو لکھ کر یا اشارے سے کر لیا کرنا بے حد مفید ہے کیونکہ جو زیادہ بولتا ہے عُمُوماً خطائیں بھی زیادہ کرتا ہے ، راز بھی فاش کر ڈالتا ہے ۔  غیبت وچغلی اور عیب جُوئی جیسے گناہوں سے بچنا بھی ایسے شخص کیلئے بَہُت دشوار ہوتاہے ۔  بلکہ بک بک کا عادی بعض اوقات معاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کُفریات بھی بک ڈالتا ہے !

دل کی سختی کا انجام 

        اللّٰہُرَحمٰنعَزَّ وَجَلَّ  ہم پر رحم فرمائے اور زَبان کو لگام نصیب کرے کہ یہ ذکرُ اللہ سے غافِل رہ کرفُضُول بو ل بول کردل کو بھی سخت کردیتی ہے ۔ اللہ غنی کے پیارے نبی مکّی مَدَنی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  فحش گوئی سخت دِلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں ہے ۔  (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۳ ص۴۰۶ حدیث۲۰۱۶)

       مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  : یعنی جو شخص زَبان کا بے باک ہوکہ ہر بُری بھلی بات بے دھڑک منہ سے نکالدے تو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اس میں حیا نہیں  ۔ سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں ۔ ایسے بے دھڑک انسان کا انجام یہ ہو تا ہے کہ وہ اللہ رسول (عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   )کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہو کر کافر ہو جا تا ہے ۔     (مراٰۃ ج ۶ ص ۶۴۱)

زَبان کچل ڈالی!

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی زیادہ باتیں کرنا بے حد خطرناک ہے ۔ کہ معاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آدمی بسا اوقات فُضُول بولتے چلے جانے کے سبب کفر کے غار میں گر سکتا ہے ۔  کاش! ہم بولنے سے پہلے تولنے کے عادی ہوجائیں کہ ہم جوبولنا چاہتے ہیں اِس



Total Pages: 17

Go To