Book Name:Meethay Bol

اب کبھی (اپنے وطن )  بِسطام (شہر کا نام)کا پھل نہیں کھاؤں گا ۔ (تذکرۃ الاولیاء ص۱۳۴) دیکھا آپ نے ! ’’لَطِیف ‘‘ کا ایک لفظی معنیٰ ’’ عُمدہ‘‘بھی ہے مگر چُونکہ ’’لَطِیف ‘‘  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاصِفاتی نام ہے اس لئے سیِّدُنا بایزید بِسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی کو تَنبِیہ کی گئی ۔

لاکھ گنا ثواب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعی اگر ہم اپنی زَبان کا دُرُست استعمال کریں تووقتاً فوقتاً ڈھیر ساری نیکیاں حاصل کرسکتے ہیں ۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ بازار میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا ذکر کر نے والے کے لیے ہر بال کے بدلے قِیامت میں نور ہوگا ۔ (شُعَبُ الْاِیْمان لِلْبَیْہَقِیّ ج۱ ص۴۱۲حدیث ۵۶۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

          یاد رہے ! تِلاوتِ قرآن، حمدو ثنا، مُناجات و دعا، دُرُود و سلام، نعت ، خطبہ، درس، سنّتو ں بھرا بیان وغیرہ سب ’’ذکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘ میں شامل ہیں ۔ لہٰذا ہر اسلامی بھائی کو چاہئے کہ رو زانہ کم سے کم12 مِنَٹ بازار میں فیضانِ سنّت کا درس دے ۔ جتنی دیر تک درس دیگا اُتنی دیر کا اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اسے بازار میں ذِکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کرنے کا ثواب ملے گا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

حاجت روائی اوربیمار پُرسی کی فضیلت

          سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جواپنی زَبان کو نیکی کی دعوت، سنتو ں بھرے بیان اور ذکر ودرود میں لگائے رکھتے ہیں  ۔ مسلمان کی حاجت روائی کرناکارِ ثواب ہے نیز بیمار یا پریشان مسلمان کو تسلی دینا بھی زَبان کا عظیم الشان استِعمال ہے ۔ چُنانچِہ

عِیادت کا عظیمُ الشّان ثواب

            شَہَنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ مُعطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : ’’ جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے جاتاہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اُس پرپَچَھتَّر ہزار ملائِکہ کے ذَرِیعے سایہ فرماتا ہے ، وہ فرِشتے اس کے لئے دُعا کرتے ہیں اور وہ فارِغ ہونے تک رَحمت میں غو طہ زن رہتا ہے اور جب وہ اس کام سے فارِغ ہوجاتاہے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اس کے لئے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب لکھتاہے  ۔ اور جس نے مریض کی عیادت کیاللہ عَزَّ وَجَلَّ    اس پر پَچَھتَّرہزار ملائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے  ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔ ‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۳ص۲۲۲حدیث ۴۳۹۶)جب کسی کا بچّہ بیمار ہو جائے ، کوئی بے روز گار یا قرضدار ہوجائے ، حادِثے کا شکار ہو جائے ، چور یا ڈاکو مال لیکرفِرار ہو جائے ، کاروبار میں نقصان سے ہمکنار ہو جائے کوئی چیز گم ہو جانے کے سبب بیقرار ہو جائے ، اَلغَرَض کسی طرح کی بھی پریشانی سے دو چار ہو جائے اُس کی دلجوئی کیلئے زَبان چلانا بَہُت بڑے ثواب کاکام ہے چُنانچِہ

جنّت کے دو جوڑے

 



Total Pages: 17

Go To