Book Name:Meethay Bol

جن میں ہر ایک کی سو سو خادِمائیں اور ہر خادِمہ کی سو سو کنیزیں ہونگی اور ہر کنیزپر سو سو ناظِمائیں (یعنی انتِظام کرنے والیاں ) ہونگی ۔  یہ سُن کر وہ بُزُرگ خوشی کے مارے جھوم اٹھے اورسُوال کیا :  کیا کسی کوجنَّت میں مجھ سے زیادہ بھی ملے گا؟ جواب ملا :  اِتنا تو ہر اُس عام جنتّی کو ملے گا جو صبح وشام اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیم  پڑھ لیا کرتا ہے ۔ (رَوْضُ الرَّیاحِین  ص۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

دیوانے ہو جاؤ!

          اِس زَبان کو ہر وَقت ذکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تر رکھئے اور ثواب کا خزانہ لوٹئے ، سر کار مدینہ قرار ِقلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے :  اِس کثرت کے ساتھ ذکر ُاللہ عَزَّ وَجَلَّ کیا کرو کہ لوگ دیوانہ کہنے لگیں ۔ (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم  ج۲ ص۱۷۳ حدیث ۱۸۸۲دارالمعرفۃ بیروت)

          ایک اور حدیثِ پاک میں فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے :   اللہ  کا اتنی کثرت سے ذکر کرو کہ منافِقین تمہیں ریا کار کہنے لگیں  ۔ ‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیْرلِلطَّبَرانِیّ ج۱۲ ص۱۳۱حدیث ۱۲۷۸۶ داراحیاء التراث العربی بیروت)

دَرَخت لگا رہا ہوں

          ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو زَبان کاکتنا پیارا استعمال بتا یا آپ بھی سنئے اور جھومئے چُنانچِہ  ’’ابنِ ماجہ ‘‘ کی روایت میں ہے ، (ایک بار) مدینے کے تا جدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کہیں تشریف لے جارہے تھے حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومُلاحَظہ فرمایا کہ ایک پودا لگا رہے ہیں ۔ اِستِفسار فرمایا :  ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ عرض کی :  درخت لگا رہا ہوں ۔ فرمایا :  ’’میں بہترین درخت لگا نے کا طریقہ بتا دوں !  سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَاللہ اَکْبَر پڑھنے سے ہر کلمہ کے عوض (عِ ۔  وَض  ۔ یعنی بدلے ) جنَّت میں ایک دَرخت لگ جاتا ہے ۔  (سُنَن ابن ماجہ ج۴ ص۲۵۲ حدیث ۳۸۰۷)

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ پاک میں چارکلمے ارشاد فرمائے گئے ہیں  : {1}  سُبْحٰنَ اللّٰہ{2} اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ {3}لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ{4} اللہ اَکْبَر یہ چاروں کلمات پڑھیں تو جنّت میں چار درخت لگائے جائیں اور کم پڑھیں تو کم ۔  مَثَلاً اگرسُبْحٰنَ اللّٰہ کہا تو ایک درخت ۔  ان کلمات کو پڑھنے کیلئے زَبان چلاتے جایئے اور جنّت میں خوب خوب درخت لگواتے جایئے ۔

عُمر راضائِع مَکُن در گفتگو        ذِکرِ اُوکُن ذکرِ اُوکُن ذکرِ اُو

(یعنی فالتو باتوں میں عمرِ عزیز ضائِع مت کر، ذکر اللہ کر، ذکر اللہ کر، ذکر اللہ کر)

80 بر س کے گُناہ مُعاف

          اِسی طرح زَبان کا ایک استِعمال یہ بھی ہے کہ دُرُود و سلام پڑھتے رہئے اور گناہ بخشواتے رہئے جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے :  ’’جو  سرکارِ نامدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   پر ایک بار دُرُود بھیجے اور وہ قَبول ہوجائے تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے اَسی (80)بر س کے گناہ مٹا دے گا ۔ ‘‘( دُرِّمُختار ج۲ ص۲۸۴ دارالمعرفۃ بیروت)

بِسْمِ اللہ  کیجئے کہنا ممنوع ہے

 



Total Pages: 17

Go To