Book Name:Meethay Bol

کی کنیت ہے ) ’’میں آج کی اس صحبت سے بَہُت ثواب کی اُمّید رکھتا ہوں  ۔ ‘‘ سیِّدُنافُضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’ میں آج کی اس صحبت سے بَہُت خوفزدہ ہوں  ۔ ‘‘ سیِّدُنا سُفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پوچھا :  کیوں ؟ سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا :  کیا ہم دو نوں اپنی گفتگو کو آراستہ نہیں کررہے تھے ؟ کیا ہم تکلُّف میں مبتَلا نہیں تھے ؟ سیِّدُنا سُفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ سُن کر رو پڑے ۔ (مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۴۴ )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مقام غور ہے ۔ ان نیک بندوں کی ملاقات رضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ  کیلئے اور ان کی بات چیت خالص اسلامی ہوا کرتی تھی ۔ مگر ان کا خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ ملاحَظہ فرمایئے !دونوں اولیائے کرام رَحِمَہُما اللہ السّلام اس ڈر سے رو ر ہے ہیں کہ ہماری گفتگو میں کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ     کی نافرمانی تو نہیں ہوگئی ۔  

 

کہیں ہم فُضُول یا بِلا وجہ خوبصورت جملے تو نہیں بول گئے !اِس سے وہ لوگ درس حاصِل کریں جو اپنی معلومات کالَوہا منوانے کیلئے بطور ریا کاری اُردو میں بات کرتے وقت عَرَبی، فارسی اور انگلش کے مشکِل لفظوں ، مُحاوَروں اورمُقَفّٰی جملوں کا بکثرت استِعمال کرتے ہیں ۔

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمینصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : جو شخص اس مقصد کے لئے بات کا ہَیرپَھیر سیکھے کہ اس کے ذَرِیعے مَردوں یا  لوگو ں کے دل پھانس لے  ۔ تواللہ تبارک وتعالیٰ برو ز قیامت نہ اس کے فر ض قبول فرمائے نہ نفل ۔ ‘‘(سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد  ج۴ ص۳۹۱حدیث ۵۰۰۶داراحیاء التراث العربی بیروت)

          مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثِین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی اِس حدیثِ  پاک کے تحت فر ما تے ہیں : صَرْفُ الْکَلَامِ (یعنی باتوں میں ہَیرپَھیر ) سے مُراد یہ ہے کہ تحسینِ کلام میں (یعنی کلام میں حُسن پیدا کرنے کیلئے ) جھوٹ ، کِذ ب بیانی بطور ریا کاری کی جائے  اور اِلتباس وابہام(یعنی یکسانیّت کا شبہ) پیدا کرنے کے لیے اس میں ردّ وبدل کر لیا جائے ۔  (اشعۃ اللّمعات ج۴ ص ۶۶) 

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 

 



Total Pages: 17

Go To