Book Name:Meethay Bol

بات لاکھ ناقابلِ قبول ہو مگرمُرُوَّ ت میں ہاں میں ہاں ملا کر بار ہا جھوٹ بولنے کا گناہ کرنا پڑتا ہے  ۔ ایسے با تونی لوگوں کی اصلاح کی ہمّت نہ پڑتی ہو تو پھر ان سے کو سو ں دوررہنے ہی میں عافیت ہے کہ ان کی گناہوں بھری باتوں میں بھی ہاں میں ہاں ملانا کہیں جہنَّم میں نہ پہنچا دے ! یہاں تک دیکھا ہے کہ اس طر ح کے بکواسی لوگ کبھی تو گمراہی کی باتیں بلکہ مَعا ذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کفریات بک کر بھی حسبِ عادت تائید حاصل کرنے کیلئے :  ’’کیوں جی ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘‘ کہہ کر سامنے والے سے ہاں کہلوا کر بعض اوقات اس کابھی ایمان برباد کروا دیتے ہیں ۔ کیوں کہ ہوش وحواس کے ساتھ کفر کی تائیدبھی کفر ہے ۔   اَلعِیاذُ بِاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   

اے کاش! ضرورت کے سوا کچھ بھی نہ بولوں

اﷲ  زَباں کا ہو عطا قفل مدینہ

فُضُول بات کی تعریف

   بات کرنے میں جہاں ایک لفظ سے کام چل سکتا ہو وہاں مزید دوسرا لفظ بھی شامل کیا تو یہ دوسرا لَفظ’’ فُضُول ‘‘ہے ۔ چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غَزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی  ’’اِحیاءُ الْعُلُوم‘‘ میں فرماتے ہیں  : اگر ایک کلمے ( یعنی لفظ) سے اِس (بات کرنے والے ) کا مقصود حاصِل ہو سکتا ہو اور وہ دو کلمے استِعمال کرے تودوسرا کلمہ فُضُول ہو گا ۔  یعنی حاجت سے زیادہ ہو گا اور جو لفظ حاجت سے زائد ہے وہ مذموم ہے ۔  (اِحیاءُ الْعُلُوم ج۳ ص۱۴۱)اگر ایک لفظ سے مقصود حاصِل نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں دویا حسبِ ضَرورت جتنے بھی الفاظ بولے گئے وہ فُضُول نہیں  ۔ بَہر حال فُضُول بات اُس کلام کو کہا جائے گا جو بے فائدہ ہو ۔  ضَرورت ، حاجت یا مَنفَعَت ان تینوں دَرجوں میں سے کسی بھی ’’ دَرَجے ‘‘ کے مطابِق جو بات کی گئی وہ فُضُول نہیں اور بعض اوقات زینت کے دَرَجے میں کی جانے والی گفتگو بھی فُضُول نہیں ہوتی مَثَلاًاَشعار، بیان یا مضمون میں تحسینِ کلام (یعنی بات میں حُسن پیدا کرنے )کیلئے حسبِ ضَرورت مُقَفّٰی و مَسَجَّع (یعنی قافیے دار) الفاظ استِعمال کئے جاتے ہیں یہ بھی فُضُول نہیں کہلاتے ۔ کبھی مخاطَب ( یعنی جس سے بات کی جارہی ہے اُس کے ) تَفَہُّم ( تَ ۔ فَہْ ۔ ہُم)یعنی سمجھنے کی صلاحیّت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے بھی ضَرورتاً الفاظ کی کمی اور زیادَتی کی صورت بنتی ہے ۔ جو کہ فُضُول نہیں تَفْہِیم( تَفْ ۔ ہِیم) یعنی سمجھانے کے اعتِبار سے لوگوں کی تین قِسمیں کی جا سکتی ہیں {1} انتہائی ذِہین{2} مُتَوَسِّط یعنی درمیانے دَرَجے کا ذِہین {3} غَبی یعنی کُند ذِہن ۔  جو’’ اِنتہائی ذِہین‘‘ ہو تا ہے وہ بعض اوقات صِرف ایک لفظ میں بات کی تہ تک جا پہنچتا ہے جبکہ درمیانے دَرَجے کی سمجھ رکھنے والے کو بِغیر خُلاصے کے سمجھنا دُشوار ہوتا ہے ، رہا کُندذِہن تو اس کو بَسا اوقات دس بار سمجھایا جائے تب بھی کچھ پلّے نہیں پڑتا ۔ مُخاطَبِین کی اِس تقسیم کے مطابِق یہ بات ذِہن نشین فرما لیجئے کہ جو ایک لَفظ میں بات سمجھ گیا اُس کو اگر اُسی بات کیلئے دوسرا لفظ بھی کہا تو یہ دوسرا لفظ فُضُول قرار پائے گا، اِسی طرح درمِیانی عَقل والا اگر 12الفاظ میں سمجھ پاتا ہے تو اُس کے سمجھ جانے کے باوُجُوداُسی بات کا 13واں یا اِس سے زائد جو لفظ بِلامَصلحت بولا گیا وہ فُضُول ٹھہرے گا اور رہا کُند ذِہن کہ اگر 100الفاظ کے بِغیر بات اِس کے ذِہن میں نہیں بیٹھتی تو یہ 100



Total Pages: 17

Go To