Book Name:Meethay Bol

میں آخِرت کاکوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں ؟اگر نہیں تو پھر زہے نصیب !بات کر نے کے بجائے اتنی دیر دُرُدو شریف پڑھ لیں کہ اس طرح آخِرت کاعظیم فائدہ حاصل ہوجائے گا! ۔  ’’اَسرارُ الاولیاء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی‘‘ میں ہے :  

 

’’حضرتِ سیِّدُنا حاتِم اَصم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم  کی زَبانِ پاک سے ایک مرتبہ ایک فُضول بات نکل گئی،  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نیپشیمان ہو کر(بے خودی کے عالَم میں ) زَبان کو دانتوں تلے اِس زور سے دبایا کہ خون نکل آیا! اور اس ایک بے کار جُملے کے کَفّارے میں بیس برس تک (بِلاضَرورت) کسی سے گفتگو نہیں کی! (اسرار الاولیاء ص۳۳ مُلَخَّصاً شبیر برادرز مرکز الاولیاء لاہور)اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو       ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم    

مُنہ سے فُضُول بات نکل جائے تو کیا کرے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !حضرتِ سیِّدُنا حاتِم اَصَم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم  نے فُضول بات کے صُدُور کے سبب صدمے سے چور ہو کر اپنی زَبان ہی کُچَل ڈالی !یہاں یہ مسئلہ ذِہن نشین فرمالیجئے کہ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو اَذِیَّت دینے کی شریعت میں اجازت نہیں لہٰذا بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے اپنے آپ کو زخمی وغیرہ کر دینے کے واقِعات میں یہ تاویل لی جائے گی کہ انہوں نے بے خودی کے عالم میں ایسا کیاکہ ؎ ’’ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے ‘‘ بَہرحال یہ اُنہیں کا حصّہ تھا ۔ کاش ! ہم صِرف اتناہی کریں کہ فُضُول بات منہ سے نکل جانے کی صورت میں بطورِ کَفّارہ 12 بار اللہ اللہ کہہ لیا کریں یا ایک باردُرُود شریف ہی پڑھ لیں  ۔ اس طرح کرنے سے ہو سکتا ہے کہ شیطٰن ہمیں اس خوف سے فُضول باتیں کرنے پر نہ اُبھارے کہ یہ لوگ کہیں ذکر و دُرُود کا وِرد کرکے مجھے پریشانی میں نہ ڈالدیں !جی ہاں !مِنھاج العِابِدین میں منقول ہے : شیطٰن کیلئے ذکر ُاللہ عَزَّ وَجَلَّ اتنا تکلیف دِہ ہے جیسے کہ انسان کے پہلو میں آکِلَہ  ۔ ‘‘ (مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۴۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)  مرضِ آکِلہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے گوشت پوست کو مُتَأَثِّر کرتی ہے اور جسم سے گوشت خود بخود جدا ہونا شروع ہوجاتاہے ۔

فُضُول جملوں کی14 مثالیں

          افسوس صدا فسوس! آج کل اچّھی صحبتیں کمیاب ہیں ۔ کئی اچھے نظر آنے والے بھی بد قسمتی سے بھلائی کی باتیں کرنے کے بجائے فُضُول باتوں میں مشغول نظر آرہے ہیں ۔ کاش! ہم صرف  ربِّ کائناتعَزَّ وَجَلَّ   ہی کی خاطر لوگو ں سے ملاقات کریں اور ہماراملنا صِر ف ضَرورت کی بات کرنے کی حد تک ہو ۔  یاد رہے ! ’’بے فائدہ باتوں میں مصروف ہونایا فائدہ مند گفتگو میں ضرورت سے زیادہ الفاظ ملا  لینا حرام یا گناہ نہیں البتّہ اسے چھوڑنا بَہُت بہتر ہے ۔ ‘‘( اِحیاءُ الْعُلُوم  ج ۳ ص ۱۴۳ دار صادر بیروت ) غیرضَروری باتیں کرتے کرتے ’’ گناہوں بھری ‘‘ باتوں میں جا پڑنے کا قوی امکان رہتا ہے لہٰذا خاموشی ہی میں بھلائی ہے ۔  ہمارے مُعاشرے میں آج کل بِلا حاجت  ایسے ایسے سُوالات بھی کئے جاتے ہیں کہ سامنے والا شرمندہ ہو جاتا ہے اور اگر جواب میں احتیاط سے کام نہ لے تو جھوٹ کے گناہ میں بھی پڑ سکتا ہے ۔  بسا اوقات اِس طرح کے سُوالات ضرورتاً بھی کئے جاتے ہیں اگر ایسا ہے تو فُضُول نہ ہوئے ۔  اس طرح کے سُوالات کی مثالیں پیشِ خدمت ہیں اگر ضرورت ہے توٹھیک اور اِس کے بِغیر کام چل سکتا ہے تو مسلمانوں کو



Total Pages: 17

Go To