Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

ولیٔ کامل کے لبہائے مبارکہ سے نکلا ہوا یہ جملہ اپنے اندر ایسی رُوحانیت لئے ہوئے تھا کہ صدر الشریعہ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے دل سے طِبابَت (یعنی علاج معالجے کے پیشے)  کاخیال جاتارہا۔ پھرمطب چھوڑااوراعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت جیسے عظیم رُوحانی طبیب کی زیر نگرانی بریلی شریف ہی میں رہ کر دینی کاموں میں مصروف ہوگئے اور علمِ دین کی اِشاعت کے ذریعے لوگوں کا رُوحانی علاج کرنے لگے ۔

لئے بیٹھا تھا عشقِ مصطفیٰ کی آگ سینے میں

ولایت کا  جبیں  پر نقش ، دل میں نو ر وحد ت کا

 (تذکرۂ صدر الشریعہ، ص ۱۲، مُلخصًّا)

مَدَنی پھول

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں دوبارہ علمِ دین کے شعبے سے وابستہ ہونے والے صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ربِّ الوَرٰی وہی ہستی ہیں جنہوں نے مسلمانانِ پاک وہند کو اُردو زبان میں  ’’ بہارِ شریعت  ‘‘ جیسا علمی خزانہ عطا کیا ۔ ’’ بہارِ شریعت  ‘‘  فقۂ حنفی کا بہترین اِنسائیکلوپِیڈیا  (یعنی معلوماتی مجموعہ) ہے ۔ شیخِ طریقت ، امیر اہلسنّت ، بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادِری رضوی دامت برکاتہم العا لیہ اِس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اپنے تمام مُرِیدِین و متعلقین کوبہار شریعت پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہوئے  ’’ مَدَنی انعامات ‘‘  کے 70 ویں اور72  ویں مدنی انعام میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ کیا آپ نے اس سال کم ازکم ایک مرتبہ بہار شریعت  حصہ 9 سے مُرْتَد کا بیان ، حصہ 2 سے نَجَاستوں کا بیان اور کپڑے پا ک کرنے کا طریقہ، حصہ 16سے خرید و فروخت کا بیان ، والدین کے حقوق کابیان (اگرشادی شدہ ہیں تو )  حصہ7سے مُحَرَّمات کا بیان اور حُقُوقُ الزَّوْجَیْن ، حصہ8  سے بچوں کی پَرْوَرِش کا بیان، طلاق کا بیان ، ظِہار کا بیان اور طلاقِ کِنایہ کا بیان پڑ ھ لیا یا سن لیا ہے؟  کیاآپ نے بہارِ شریعت  یانماز کے اَحکام  (رسائل عطاریہ حصہ اوّل)  سے پڑھ یا سن کر اپنے وضو، غسل اور نماز دُرُست کرکے کسی سُنّی عالِم یا ذمہ دار مبلغ کو سنا دیئے ہیں ؟  ‘‘

          الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی شعبے کی مجلس المدینۃ العلمیۃ نے بہارِ شریعت کی تخریج وتسہیل وحواشی کا کام شروع کر رکھا ہے ۔تادمِ تحریر اس کی جِلد اوّل (حصہ1 تا6 ) ، حصہ7، 8، 9، 16 مکتبۃ المدینہ سے چھپ کر منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔ مکتبۃالمدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃََ طلب فرمائیں ۔ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالٰی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرما، علمِ نافِع اور عملِ صالِح کی دولت سے مالامال فرما ، تادمِ آخر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستقامت عطا فرما۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                               صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)   سونے کی انگوٹھی پہننے والے پر اِنفرادی کوشش

          سَجَّادہ نشیں سرکار کلاں مارہرہ شریف حضرت مہدی حَسَن میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں : ’’  میں جب بریلی شریف آتا تو اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت     خود کھانا لاتے اور ہاتھ دُھلاتے ۔ایک مرتبہ میں نے سونے کی انگوٹھی اور چھلے پہنے ہوئے تھے، حسب ِدَستور جب ہاتھ دُھلوانے لگے تو فرمایا :  ’’  شہزادہ حضور! یہ انگوٹھی اور چھَلّے مجھے دے دیجئے! ‘‘ میں نے اُتار کر دے دئیے اور بمبئی چلاگیا۔بمبئی سے مارہرہ شریف واپس آیا تو میری لڑکی فاطمہ نے کہا:  ’’ اباحضور ! بریلی شریف کے مولانا صاحب  (یعنی اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کے یہاں سے پارسل آیا تھا ، جس میں چھلے  انگوٹھی اورایک خط تھا جس میں یہ لکھاتھا :  ’’ شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیاء آپ کی ہیں  (کیونکہ مَردوں کو ان کا پہننا جائز



Total Pages: 20

Go To