Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

رُکوع نگاہ پاؤں پرہونی چاہئے ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی وہ صاحب قابوسے باہر ہوگئے اورکہنے لگے: ’’  واہ صاحب! بڑے مولانا بنتے ہو، نماز میں قبلہ کی طرف منہ ہونا ضروری ہے اور تم میرا منہ قبلہ سے پھیرناچاہتے ہو! ‘‘ یہ سن کراعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے ان کی سمجھ کے مطابق کلام کرتے ہوئے فرمایا: ’’ پھر تو سجدہ میں بھی پیشانی کے بجائے ٹھوڑی زمین پر لگائیے! ‘‘ یہ حکمت بھراجملہ سن کر وہ بالکل خاموش ہوگئے اوران کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ  ’’  قبلہ رُو ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اوّل تا آخرقبلہ کی طرف منہ کرکے دیوار کو دیکھا جائے ، بلکہ صحیح مسئلہ وہی ہے جو اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے بیان فرمایا۔  (حیات اعلی حضرت ، ج۱، ص۳۰۳)

مَدَنی پھول

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مَقُولہ مشہور ہے : ’’  کَلِّمُواالنَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِہِمْ  (یعنی لوگوں سے ان کی عقلو ں کے مطابق کلام کرو )  (  ابجد العلوم ، ج ۱، ص ۱۲۹)  آپ نے دیکھا کہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے ایک عام شخص سے اس کی عَقْل کے مطابق کلام کیا تو آپ کی زبان سے نکلے ہوئے حکمت بھرے ایک جملے نے بَرسَابَرَس سے نماز میں غَلَطی کر نے والے کی لمحہ بھر میں اِصلاح فرما دی۔ ’’ اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش ‘‘  کرنے والے مُبَلِّغِین کو چاہئے کہ اس مَدَنی پھول کو اپنے دل کے مَدَنی گلدستے میں سجا کراسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں ، ہفتہ وار اِجتماعات وغیرہ میں شرکت کروانے کے لئے اِنفرادی کوشش کریں ، ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  کامیابی ان کے قدم چُومے گی ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم     

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                               صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (3)    طَبِیب پر اِنفرادی کوشش

           صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ا مجد علی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ تدریس فرمائی۔پھر بعض وجوہات کی بنا پر تدریس چھوڑ کر مطب (یعنی کلینک)  شروع کر دیا  (کیونکہ آپ حکیم بھی تھے) ۔ذریعۂ مَعَاش سے مطمئن ہوکر جُمادَی الاُولیٰ ۱۳۲۹ھ میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کسی کام سے ’’  لکھنؤ  ‘‘ تشریف لے گئے۔وہاں سے اپنے اُستاذِ محترم حضرت مولاناشاہ وَصِی احمد مُحَدِّث سُورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمت میں  ’’ پیلی بھیت ‘‘  حاضر ہوئے ۔ حضرت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا ہونہار شاگرد تدریس چھوڑکر مطب میں مشغول ہوگیا ہے تو انہیں بے حد افسوس ہوا۔چُونکہ صدرُ الشَّریعہ  علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا ارادہ بریلی شریف حاضِر ہونے کا بھی تھا چُنانچِہ بریلی شریف جاتے وقت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک خط اِس مضمون کا اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں تحریر فرمادیا تھا کہ ’’  جس طرح ممکن ہو آپ اِن  (یعنی صدرُ الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی)  کو خدمتِ دین وعلمِ دین کی طرف مُتوجِّہ کیجئے۔ ‘‘  

          جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے درِ دولت پر حاضِری ہوئی توآپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نہایت لطف وکرم سے پیش آئے اور دریافت فرمایا: مولانا کیا کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کی:  مطب کرتا ہوں ۔اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے فرمایا : ’’ مطب بھی اچھا کام ہے، اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْاَدْیَانِ وَعِلْمُ الْاَبْدَان  (یعنی علم دو ہیں ؛علمِ دین اور علمِ طبّ ) ، مگر مطب کرنے میں یہ خرابی ہے کہ صبح صبح قارُورہ  (یعنی پیشاب) دیکھنا پڑتا ہے۔ ‘‘



Total Pages: 20

Go To