Book Name:4 Sansani khez Khwab

بس اب اپنے اس جہل سے تُو نکل بھی                 یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقت میں دنیا کی لذّتیں خواب کی طرح ہیں جو  اس کی رنگینیوں میں کھویا ہوا ہے وہ یقینا غفلت کی نیند سویا ہوا ہے ، موت آنے پر وہ جاگ اُٹھے گا ۔  مذکورہ بالا خواب میں جنگل سے مُراد دنیا ہے اور خوفناک شیر موت ہے ، جو پیچھے لگی ہوئی ہے ، گڑھا قَبْرہے جو آگے ہے ، وہ سانپ  بُر ے اَعمال ہیں جو قَبْر میں ڈَسیں گے اور دو سفید و سیاہ چوہے دن اور رات ہیں اور وہ ٹہنی زندَگی ہے ، جسے وہ کاٹ رہے ہیں اور شہد کا چھتّہ دنیا کی فانی لذّات ہیں ، جِن میں مشغول ہو کر انسان شیر (یعنی موت)، گڑھا (یعنیقَبْر)، سانپ (یعنی سزائے اعمال بد) اور سیاہ و سفید چوہوں (یعنی دن اور رات) کو بھول جاتا ہے مگر وہ دونوں چوہے (یعنی دن اور رات) ملکر اُس کی زندَگی کی ٹہنی کو برابر کُتَرتے رہتے ہیں ، جُوں ہی اُس کی مُدّت پوری ہوتی ہے ، وہ موت کا شکار ہو جاتا ہے ۔

حسنِ ظاہِر پر اگر تُو جائے گا                  عالَمِ فانی سے دھوکا کھائے گا

یہ مُنَقَّش سانپ ہے ڈس جائے گا          رہ نہ غافل یاد رکھ پچھتائے گا

ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے

کر لے جو کرنا ہے آخِر موت ہے

{4}پُلصراط کی دہشت

            حضرتِ سیِّدُنا عُمربن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ایک کنیز نے حاضر ہوکر عرض کی :  میں نے خواب میں دیکھا کہ جہنَّم کو دَہکایا گیا ہے اور اُس پر پُلصراط  رکھ دیا گیا ہے ۔  اتنے میں اُموی خُلَفاء کو لایا گیا ۔  سب سے پہلے خلیفہ عبدُالملِک بن مَروان کو حکم ہو ا کہ پُلْصراط سے گزرو، وہ پُلْصراط پر چڑھا ، مگر آہ! دیکھتے ہی دیکھتے دوزخ میں گر پڑا ۔  پھر اُس کے بیٹے ولید بن عبدُالملِک  کو لایا گیا، وہ بھی دوزخ میں جا گِرا ۔  اس کے بعد سلیمان بن عبدُالملِک کو حاضِر کیا گیا اور وہ بھی اسی طرح دوزخ میں گر گیا ۔  ان سب کے بعد یا امیرَالمؤمنین! آپ کو لایا گیا، بس اِتنا سننا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خوفزدہ ہو کر چیخ ماری اور گر پڑے ۔  کنیز نے پکار کر کہا :  یا امیرالمؤمنین! سُنئے بھی تو… خداکی قسم! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پُلْصراط کو عُبُور کرلیا ۔  مگر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  پُلْصراط کی دَہشَت سے بے ہوش ہو چکے تھے اور اسی عالم میں اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔  ( اِحْیاءُ الْعُلُوم  ج ۴ص۲۳۱دارصادربیروت)  

 



Total Pages: 12

Go To